جامع مسجد قرطبہ کی تعمیر
![]() |
| جامع مسجد قرطبہ کی تعمیر |
عبدالرحمن الداخل نے جب قرطبہ میں اپنی حثیت مستحکم کی تو اس نے ایک محل تعمیر کروایا اسکے بعد 784ء 168ھ میں چرچ سینٹ وینسینٹ ساتھ مسجد بنوائی ۔۔ مسلمانوں کی آبادی جب بڑھ گئی تو اسکی توسیع کی پریشانی پیش آئی تو مسجد توسیع کے لیے بالائی منزلوں کی تعمیر شروع کردی گئی لیکن بالائی منزلوں پر چڑھنے کے لیے پر پیچ راستوں سے گزر کر جانا پڑتا تھا جو انتہائی دشوار مرحلہ تھا ۔۔۔ عبدالرحمن نے مسجد کو مزید وسیع کرنا چاہا لیکن مسلہ زمین کا تھا دوسری جانب سینٹ وینسینٹ چرچ اپنی جگہ موجود تھا اور وہ کسی صورت چرچ کو دینا نہیں چاہتے تھے اور مسلمانوں کو سیدنا عمر بن الخطاب رضی عنہ کا معاہدہ بھی یاد تھا جو انہوں نے 15 ہجری 636ء اہل ایلیاء کے ساتھ کیا تھا جو یوں ہے ۔۔۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔۔۔۔۔۔۔
"اللہ کے بندے عمر امیر المومنین نے ایلیاء والوں کو امان دے دی ان کو انکی جانوں اور مالوں کی امان دے دی گئی ہے ۔۔۔ ان کے عبادت خانے ، صلیبیں ، بیمار اور تندرست اور تمام مذاہب والے باشندے امان میں رہیں گے ۔۔ ان کے گرجا گھروں کو کوئی مسلمان رہائش کے لیے استعمال نہیں کرے گا نہ ہی منہدم کیا جائے گا ، اور نہ ہی انکی عمارت یا زمین میں سے کمی کی جائے گی نہ ہی انکی صلیب یا مال میں سے کوئی کمی کی جائے گی ۔۔ ان پر ان کے دین کے متعلق جبر نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے کسی فرد کو کوئی نقصان پہنچایا جائے گا ۔۔۔۔
ایک طرف عربوں کو اس معاہدے کا بخوبی علم تھا تو دوسری طرف عیسائیوں کو بھی مسلمانوں کے دین داری کا اسی لیے عیسائیوں نے قطعی طور پر چرچ کی زمین دینے سے انکار کردیا ۔۔۔ اسکے بعد عیسائی راہبوں نے ایک مجلس منعقد کی اور آپس میں مشورہ کرنے لگے ان میں یہ طے پایا کہ وہ اس صورت میں چرچ سے دستبردار ہوسکتے ہیں کہ اس سے قبل جو گرجا گھر مسمار ہوئے انکی از سرِ نو تعمیر کی جائے ۔۔ عبدالرحمن الداخل نے شرط منظور کرلی اور انہیں اس زمین کی قیمت ایک لاکھ دینار ادا کردی۔ ۔۔ مسجد کی تعمیر کا آغاز 168ہجری 784ء میں ہوا دوسال کے اندر اندر 170 ہجری 786ء میں ایک عالی شان مسجد نمازیوں کے لیے تیار ہوگئی ۔۔۔
جامع مسجد قرطبہ عبدالرحمن الداخل کی زندگی کی سب سے بڑی آرزو تھی اس کا ارادہ تھا کہ اس مسجد کو بڑے پیمانے پر جامع مسجد دمشق ہی کی طرح بنایا جائے ۔۔ یہ جامع مسجد عظمت و شان میں تمام مشرقی معابد سے بڑھی ہوئی تھی ۔۔۔ اس کا مینار زمین سے 71 گز بلند یعنی 213 فٹ تھا ۔۔ اسکا گنبد جس کی چھت کے نیچے ترشی ہوئی لکڑی کا منطقہ تھا ایک ہزار تھا 1093 مختلف رنگوں کے سنگ مرمری ستونوں پر قائم تھا ۔۔۔ یہ ستون بساط شطرنج کے سے ہیں چوکور شکل میں نصب کئے ہوئے تھے ایک مربع میں پانچ ستون تھے ۔۔۔جس ترتیب سے عمارت کے طول میں 19 گلیاں اور انکو قطع کرتی ہوئی عرض 38 کسی قدر تنگ گلیاں بن گئی تھیں ۔۔مسجد کا جنوبی روکار دریائے کاڈل کوئی در " رود الکبیر" کی جانب واقع ہوا تھا ۔۔ اور اس میں 19 دروازے تھے جس پر نہایت باریک کام ہوئی کانسی کی پتریاں جڑی ہوئی تھیں ۔۔۔ داخل اور عین وسط کے دروازے پر سونے کی پتریاں جڑی ہوئی تھیں ۔۔ مشرقی اور مغربی کے روکار میں بھی اس قسم کے نو نو دروازے تھے ۔۔۔
جب عبدالرحمن الداخل کی پر شوق نگاہیں اس خوبصورت مسجد کی میناروں پر جاتیں تو اس کی زبان سے بے اختیار نکلتا ۔۔۔ " کہ یہ مسجد ایک خلیفہ چاہتی ہے ۔۔ یہ عبدالرحمن الداخل کی دوسری خواہش تھی حالانکہ کہ انہوں نے اپنے لیے صرف امیر کا لقب اختیار کیا جبکہ ان کی یہ خواہش عبدالرحمن الناصر نے پوری کی اور مسجد قرطبہ کے منبر پر کھڑے ہوکر خطبہ دیا اور خلیفہ کا لقب اختیار کیا۔۔۔

إرسال تعليق