سب سے پرانی تحرير
انسانی تاریخ کا وہ سب سے پرانا لٹریچر جسے آج سے 4000 سال پہلے لکھا گیا تھا۔ یہ لٹریچر عراق میں محفوظ ہے۔ یہ ایک سومیرین بادشاہ Gilgamesh کے اعزاز میں کسی نے نظم لکھی تھی اس زمانے میں۔ موجودہ انسانی تاریخ میں یہ وہ سب سے پرانا لکھا لٹریچر ہے جو ہم انسانوں کو ملا۔۔۔
![]() |
| گلگمش کی تختی |
کیا اس سے پہلے انسان لکھنا پڑھنا جانتے تھے؟ تو جواب ہے نہیں۔ یہ ہمارے پاس اس حوالے سے سب سے پرانا ثبوت ہے۔ انسانی تاریخ کے اندر سومیرین ہی وہ غالباً پہلی قوم ہے جس نے سب سے پہلے لکھنا شروع کیا۔ اس بات کا ثبوت یہ آپ لوگوں کے سامنے ہے۔ اس کے علاوہ اس سے پرانا کوئی ثبوت اس حوالے سے ہمارے پاس نہیں۔ مطلب اس سے پہلے انسان ابھی لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے اگر کوئی ملا مستقبل میں تو وہ پھر اس کی نفی کر دے گا۔ موہنجوداڑو کی تہذیب کے بھی کچھ تحریر ہمیں ملی ہیں ماضی میں لیکن ان کے اندر لکھی گئی زبان کو ابھی تک پڑھا نہیں جا سکا پوری طرح کے ان کے اندر کیا لکھا ہوا ہے لہذا لٹریچر کے طور پر یہ ایک سب سے وہ پرانی تحریر ہے جسے ہم پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں۔
آج کا انسان اس معاملے میں کس قدر ترقی کر چکا ہے اس کی واضح مثال یہ سوشل میڈیا ہے آج کے زمانے کے انسان کو پتھروں پر لکھنے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی بلکہ آج کے انسان کو تو قلم، دوات پیپر اور سیاہی کی بھی اتنی ضرورت نہیں رہی جو آج سے صرف پندرہ بیس سال پہلے کے انسانوں کی اہم ضرورت تھی۔۔یعنی آج کا انسان اس پتھر کے دور سے نکل کر جدید ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو چکا ہے ۔ یہی وہ وجہ ہے آج ہم انسان ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیں۔ یہ اس طرح ایک دوسرے سے سیکھنے سکھانے والا عمل آج سے صرف پندرہ بیس سال پہلے کا انسان بھی نہیں جانتا تھا۔ یہی ہے وہ تبدیلی جو وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔ یہ ساری نعمتیں ہمیں سائنس دے رہی ہے جس سے ساری دنیا کے انسان بنا کسی تفریق کے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں

إرسال تعليق