آخری آرام گاہ،جو آخری نہ ہوسکی



آخری آرام گاہ،جو آخری نہ ہوسکی

شیخ موسیٰ منصوری


موت کے بعد مردہ اجسام کو ٹھکانے لگانے کے طور طریقے مختلف مذاہب اور ثقافتوں میں مختلف رہے ہیں۔ کوئی اپنے پیاروں کو دفناتا ہے تو کوئی جلاتا ہے۔ دفنانے کے بعد مردہ اجسام یا اُن کی باقیات کو قبروں سے نکالنا ہر مذہب میں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے قبر کو آخری آرام گاہ کہا جاتا ہے کہ یہاں دفن شدہ جسم مٹی تو ہو سکتا ہے، لیکن اس جگہ سے کہیں اور منتقل نہیں ہوسکتا۔ بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں جن میں مجبوراً قبر کشائی کر کے مردے کی باقیات نکالنا پڑ تی ہے۔ ان میں موت کی وجہ جانناسر فہرست ہے۔ تاہم جن لوگوں کی موت دیارِ غیر میں ہوتی ہے اوروہ وہی دفن کر دیے جاتے ہیں، ان کا جسد خاکی ان کے آبائی وطن روانہ کرنے کے لیے قبر سے نکالا جاتا ہے۔وقتی طور پر دفنانے کو ’امانتاً ‘ دفنانا کہتے ہیں۔ ہوائی جہاز کی ایجاد اور میت کو دیر تک تازہ رکھنے والے کیمیکلز کی موجودگی کے باعث دیار غیر میں مرنے والے کو بھی اب چوبیس گھنٹے کے اندر اُس کے آبائی وطن پہنچانا آسان ہوگیا ہے، اس لیے امانتاً دفنانے کا تصور اب قریباً ختم ہو چکا ہے۔

 اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ جس شخص کی موت جس جگہ ہو، اُسے وہی دفنا بہتر ہے۔ اس بحث سے قطع نظر یہاں چند ایسی نام ور شخصیات کی موت کا ذکر کرتے ہیں، جن کے جسد خاکی قبروں سے نکال کر دوسرے جگہ دفنائے گئے۔ 

آخری آرام گاہ،جو آخری نہ ہوسکی
آخری آرام گاہ،جو آخری نہ ہوسکی


چے گویرا


چے گویرا نام ور دانش ور، ژاں پال سارتر کے مطابق انیسویں صدی کا مکمل ترین انسان چے گویرا پوری زندگی سام راج (امریکا) کے خلاف برسر پیکار رہا۔ اس انقلابی گوریلے کی بے چین روح اسے کسی پل چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی۔سامراجیت دشمن ،سرمایہ داری نظام کو ملیا میٹ کرنے کا عزم دل میں لیے اپنے ملک ارجنٹینا سے چل پڑا اورمختلف ممالک میں گوریلا جنگ لڑتا ہُوا 1967 میں بولیویا میں امریکی گماشتوں ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ چے گویرا اور اُس کے ساتھیوں کو بڑی بے دردی سے قتل کر کے اُن کی لاشیں ویرانے میں دفنا دی گئیں۔

1997 میں چے گویرا کی ہاتھ کٹی لاش کی باقیات ویلی گراندے کی فضائی پٹی کے نیچے سے دریافت ہوئیں، جنہیں چھے دیگر ساتھیوں کی باقیات سمیت کیوبا لایا گیا اور سانتا کلارا میں ایک یادگار تعمیر کرکے پورے قومی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

سانتا کلارا وہ جگہ ہے جہاں 1959 میں چی گویرا کی قیادت میں کیوبائی انقلاب کی آخری فیصلہ کن لڑائی ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں امریکی گماشتا ڈکٹیٹر باتستا ملک چھوڑ کر امریکا فرار ہوگیا تھا۔چے کی باقیات دفنانے کے موقع پر کاسترو نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’چے، ہم تمہیں کیسے دفنا سکتے ہیں تمہارے لیے تو پورا کیوبا کم ہے، تمھارا مقصد عظیم تھا، تم ہمیشہ زندہ رہو گے۔‘‘
۔

سید جمال الدین افغانی


 جمال الدین افغانی سید جمال الدین افغانی انیسویں صدی کے صف اول کے با اثر مسلمان زعما میں سے تھے۔ علامہ اقبال نے ا ن کی مساعی و نظریات کا بڑا اثر قبول کیا۔انھوں نے اپنی تصانیف اور بیانات میں افغانی کاکئی بار ذکر کیا اور ان کی متنوع اور انقلابی خدمات کو سراہا ۔جمال افغانی مرتے دم تک پین اسلام ازم (اتحاد عالم اسلامی)کے لیے کام کرتے رہے۔ 
جمال افغانی، افغانستان کے شہر جلال آباد میں 1839 میں پیدا ہوئے۔ اٹھارہ برس کی عمر میں تاریخ، حکمت و فلسفہ، ریاضی اور نجوم وغیرہ میں فارغ التحصیل ہو گئے ۔ 1857 میں حج کرنے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے بعدازاں عرب ممالک اور ایران کی ایک سالہ سیاحت کے بعد وطن لوٹ آئے۔ 

جمال افغانی،افغانستان، ایران اور ترکی کو برطانیہ کے استعماری عزائم کے خلاف متحد کرنا چاہتے تھے، اس مقصد کے لیے انھوں نے ان ممالک کا سفر کیا اور مسلمان حکم رانوں کو متحد ہو کر برطانیہ کے خلاف صف آرا ہونے کے لیے سمجھاتے رہے۔ اُس دور  میں زیادہ تر مسلم ممالک میں بادشاہت تھی یا مخصوص خاندانوں کی حکمرانی تھی۔ یہ مسلم حکم راں اقتدار سے چمٹے رہنا پسند کرتے تھے۔ وہ افغانی کے انقلابی نظریات سے بھی خوف زدہ تھے، چناں چہ کسی نے بھی انھیں زیادہ عرصہ اپنے ملک میں برداشت نہیں کیا۔ سلطنت عثمانیہ کے سلطان عبدالحمید نے ابتدا میں افغانی کی تحریک اتحاد عالم اسلامی کی حمایت کی لیکن پھر وہ بھی افغانی کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہا اور ان کے گرد جاسوسوں کا اتنا پہرہ بیٹھا یا کہ جمال افغانی سرکاری مہمان خانے کو زندان خانہ سمجھنے لگے۔ ان پریشان کن حالات میں وہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہوگئے اور اسی حالت میں 9 مارچ 1897 کو انتقال کرکے استنبول میں دفن ہوئے۔

 قریباًنصف صدی گزرنے کے بعد 1944 میں افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ نے اُن کا تابوت استنبول سے کابل منتقل کروایا اور کابل یونی ورسٹی کے احاطے میں دفن کیا۔بعدازاں اُن کی قبر پرایک شان دار مقبرہ تعمیرکیا گیا۔
۔

 اُدھم سنگھ


 اُدھم سنگھ اُدھم سنگھ پنجاب کاایک غیور اور دلیر انسان تھا۔ وہ جلیانوالہ باغ کاالمیہ فراموش نہ کرسکا۔ یہ واقعہ اس کے سینے میں کانٹے کی طرح پیوست ہوگیا۔ اس نے عزم کیا کہ وہ جلیانوالہ باغ کے قاتل جنرل ڈائر سے بدلہ لے کر ہی دم لے گا ۔ 13 اپریل 1919 کو جلیانوالہ باغ میں سنگھ برادری بیساکھی کا میلہ منا رہی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے یہ میلہ سیاسی جلسے میں تبدیل ہوگیا اور مقررین بدنام زمانہ رولٹ ایکٹ کے خلاف تقریریں کرنے لگے۔ جنرل ریجلنڈ ڈائر (Reginald Dyer)نے میدان کو گھیرے میں لے کر بغیر کسی تنبیہ کے نہتے عوام پر فائر کھول دیا۔ برطانوی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس سانحے میں 400 افراد جاں بحق ہوئے،جب کہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق 1300 افراد جان کی بازی ہارے۔ جب یہ سانحہ ہُوا اُس وقت اُدھم سنگھ ڈیڑھ برس کا بچہ تھا ۔

اس واقعے میں مارے جانے والوں میں اُس کا باپ بھی شامل تھا۔ہوش سنبھالنے کے بعد اُس نے قسم کھائی کہ جب تک وہ اس واقعے کے ذمے داروں کو موت کے گھاٹ نہیں اُتارتا ، وہ چین سے نہیں بیٹھے گا۔ لیکن اُس کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ جنرل ڈائر 24 جولائی 1927 کومتعدد بیماریوںمیں مبتلا ہو کر مرگیا۔ تاہم اس واقعے کا دوسرا اہم کردار، پنجاب کا اُس وقت کا لیفٹیننٹ گورنر مائیکل او ڈائر) Michael (O'Dwyer حیات تھا، جس کی تائید سے جنرل ڈائر نے معصوم لوگوں کی جانیں لی تھیں۔اُدھم سنگھ کواس واقعے کے 20 سال بعدموقع ملا ۔لندن میں ایک شام کیگسٹن ہال میں منعقدہ ایک تقریب میں لیفٹیننٹ جنرل مائیکل اوڈائر اگلی صف میں بڑے اطمینان اور سکون سے براجمان تھا۔ اس کو معلو م نہیں تھا کہ اْدھم سنگھ موت کے روپ میں اس سے کچھ فاصلے پر موجود ہے۔جونہی مائیکل اوڈائر تقریر کرنے اسٹیج پر آیا، اُدھم سنگھ نے اس پر فائر کھول دیے۔ جنرل او ڈائر وہی ڈھیر ہوگیا۔ اُدھم سنگھ نے اقبال جرم کرتے ہوئے کہاکہ وہ جلیانوالہ باغ میں مارے گئے نہتے عوام کے خون کا بدلہ لینے کے لیے خاص طور پر لندن آیا تھا اور اس نے جوکچھ کیا ، اسے اس پر فخر ہے۔ اُدھم سنگھ پر قتل کا مقدمہ چلا اور لندن کی ایک جیل میں اُسے پھانسی دے دی گئی۔اس کی موت کے قریباً 50 سال بعدانڈیا کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اپنے دورِ حکومت میں اُدھم سنگھ کی باقیات لندن سے انڈیا منتقل کیں اورانھیں عزت و احترام کے ساتھ دفنایا۔
۔

 مطیع الرحمن 

 مطیع الرحمن مطیع الرحمن پاک فضائیہ میں لڑاکا پائلٹوں کو تربیت دیا کرتا تھا۔ 1971ء کی جنگ کے دوران کراچی سے لڑاکا طیارہ اغوا کرکے لے جارہا تھا کہ بھارت کی سرحد کے قریب اُس کا جہاز تباہ ہوگیا ۔ 20 اگست کو جب راشد منہاس اپنی تربیتی پرواز پر تھے تومطیع الرحمن نے انہیں طیارے میں خرابی کا اشارہ کرکے روکا اور ’کلوروفام‘ سے نیم بے ہوش کردیا۔ مطیع الرحمن نے اپنے ساتھیوں سے پہلے سے کہہ رکھا تھا کہ وہ ان کے اہل خانہ کو کراچی میں بھارتی ہائی کمیشن پہنچادیں، وہ طیارہ اغوا کر کے جودھ پور لے جائے گا۔ ۔مطیع الرحمن خاصاتجربہ کار پائلٹ تھا۔ اُس نے ’راڈار‘ سے بچنے کے لیے طیارے کو نچلی پرواز پر رکھا ۔ دوران پرواز راشد منہاس ان سے لڑتے رہے۔ جب راشد کو کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا تو انہوں نے دو کاک پٹ والے T33طیارے کو زمین سے ٹکرا دیا۔اس حادثے میں دونوں پائلٹ جان سے گئے۔ حکومت ِ پاکستان نے راشد منہاس کو اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’نشان حیدر‘ سے نوازا،جب کہ بنگلہ دیشی پائلٹ مطیع الرحمن کے اعضا کراچی میں مدفون کر دیے گئے ۔بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیاء جب فروری 2006 میں پاکستان کے دورے پر آئیں تو انھوں نے مطیع الرحمن کا جسد خاکی ڈھاکا لے جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ پاکستان کی حکومت نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر اجازت دے دی۔ چناں چہ اسی سال جون میں 36 برس بعد مطیع الرحمن کی قبر کشائی کر کے اُس کی باقیات بنگلہ دیش منتقل کر دی گئیں، جہاں اسے پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا۔بنگلہ دیش کی حکومت نے دسمبر 2007 کے اوائل میں بھارت میں مدفون دیگر دو بنگالی سپاہیوں کی باقیات بھی بنگلادیش منتقل کر کے سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنائیں۔
چارلی چیپلن 
 چارلی چیپلن چارلی چیپلن کا نام زبان پر آتے ہی ہونٹوں پربے ساختہ مسکراہٹ آجاتی ہے۔ اُس کی اداکاری دیکھ کر لوگ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوجایا کرتے ہیں۔ خاموش انگریزی فلموں کا یہ مزاحیہ اداکار 25 دسمبر 1977 کو کرسمس جیسے خوشی کے تہوار کے موقع پر سب کو سوگوار چھوڑ کر 88 سال کی عمر میں دنیا سے چلا گیا۔چارلی کی تدفین سوئٹزر لینڈ کے صوبے Vaud کی ڈسٹرکٹ ریویرا میں ہوئی۔ لوگوں کو خوشیاں بانٹنے والے اس اداکار کے جسد خاکی کے ساتھ ایک عجیب و غریب معاملہ ہُوا۔ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں عموماًزندہ لوگوں کے ساتھ پیش آتی ہیں، لیکن چارلی کی موت کے ایک سال بعدپولینڈ اور بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے دو بے روزگار مہاجروں نے اُس کی قبر کھود کر اس کا تابوت’ اغوا‘ کر لیا۔ اغوا کاروں کا مقصد چارلی کے اہل خانہ سے مردہ چارلی کے عوض رقم بٹورنا تھا۔ اس سے پہلے کہ اغوا کار اپنے مذہوم مقاصدمیں کام یاب ہو تے ،پولیس نے دونوں اغوا کاروں کو دھر لیا۔ 
چارلی کا تابوت دوبارہ دفنایا گیا، لیکن اس بار قبر کو چاروں اطراف سے اور اُوپر سے کنکریٹ سے مضبوط کر دیا گیا، تا کہ دوبارہ کوئی ایسی گری ہوئی حرکت نہ کر سکے۔ 
۔

ایلوس پریسلے 


ایلوس پریسلے ایلوس پریسلے اور چارلی چیپلن میں دو چیزیں مشترک تھیں۔ دونوں کا انتقال ایک ہی سال ہُوااور دونوں کے تابوت چرانے کی کوشش کی گئی۔ امریکا کا مشہور گلو کاراور روک اینڈ رول کا بادشاہ ایلوس نشے کی لت میں مبتلا ہو کر اپنی صحت خراب کر بیٹھا تھا۔ چناں چہ 16 اگست 1977 کوصرف 42 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے اُس کی موت واقع ہوگئی۔ ایلوس نے اپنے کیریر میں 800 سے زیادہ گانے گائے اور 33 فلموں میں بہ طور ہیرو اداکاری کی۔ایلوس کا شمار اُن شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے مرنے کے بعد بھی مقبولیت حاصل کی۔ ایلوس کے جسد خاکی کو امریکی ریاست ٹینیسی کے شہر ممفس کے قبرستان میں اُس کی ماں کی قبر کے برابر دفنایا گیا۔ اُسے دنیا سے رخصت ہوئے ابھی تھوڑا عرصہ گزرا تھا کہ چارلی چیپلن کی طرح اُس کا تابوت چرانے کا منصوبہ بنایا گیا۔اس منصوبے کی بنیاد وہ بیش قیمتی انگوٹھیاں بنیں، جو ایلوس نے دفن ہوتے وقت پہن رکھی تھیں۔
ایلوس کی موت کو ابھی 13دن گزرے تھے کہ اُس کی قبر کے اطراف چارمشکوک افراد ٹہلتے ہوئے دیکھے گئے۔ اس بات کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔پولیس نے تین افراد گرفتار کر لیے، جب کہ ایک فرار ہوگیا۔ گرفتار ہونے والوں میں نیوی کا سابق ملازم رونی ایڈکنز بھی تھا۔ رونی نے بیان دیا کہ یہ منصوبہ دراصل ایک دولت مند شخص نے بنایا تھا، جس کا مقصد ایلوس کے مردے کو ’اغوا‘ کر کے اُس کے باپ سے 10 ملین ڈالر’ تاوان‘ وصول کرنا تھا۔اس کام کے بدلے اُس پراسرارشخص نے چاروں کو دس، دس ہزار ڈالر انعام دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ایلوس کے باپ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے اور بیوی کے تابوت اس جگہ نہیں رہنے دے گا۔ چناں چہ 3 اکتوبر کو دونوں ماں بیٹے کی قبریں کھودی گئیں اور ان کے تابوت نکال کر 13.8 ایکٹر پر پھیلی ایلوس کی ذاتی جاگیر’ گریس لینڈ ‘میں دفن کر دیے گئے۔1982میں ایلوس کی قبر کی زیارت کے لیے اس جگہ کو عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ اُس پراسرار شخص کا کچھ پتا نہ چل سکا، جس نے ایلوس کا تابوت چرانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ رونی ایڈکنز بعدازاں ایف بی آئی کا مخبر بن گیا۔
۔

جَون پیرون 


 جَون پیرون تین مرتبہ ارجنٹینا کے صدر منتخب ہونے والے جون پیرون اور اُن کی بیوی ایواپیرون کو بھی آخری آرام گاہیں مشکل سے نصیب ہوسکیں۔ جَون پیرون کا انتقال اپنی تیسری مدتِ صدارت کے دوران 1974 میں ہُوا۔اُسے ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں دفنایا گیا۔ 1987 میں اُن کی قبر کی بے حرمتی کرتے ہوئے کسی نے اُن کے دونوں ہاتھ اور اُن کے ساتھ دفنائی گئی تلوار چوری کر لی۔ اس واقعہ کے بعد اُس کی باقیات بیونس آئرس میں اُن کے مکان میں دفنا دی گئیں۔ ایوا پیرون ایوا پیرون کی وفات، اُس کے شوہر جون پیرون کی دوسری مدتِ صدارت کے شروع ہونے سے پہلے 26 جولائی 1954 کو ہوئی۔
۔

ایوا 


 ایوا جنوبی امریکا کی سب سے مقبول ترین خاتون راہ نما تھی، جسے ’قوم کی روحانی لیڈر‘ کا خطاب ملا۔ ایوا نے لیبر منسٹر کے طور پر مزدوروں ، کسانوں اور محنت کشوں کے حقوق کے لیے بہت زیادہ کام کیا اور اُن کے حق میں قوانین پاس کروائے۔ اُس نے بہت مختصر زندگی پائی، وہ کینسر میں مبتلا ہو کر صرف 33 برس کی عمر میں انتقال کر گئی۔ اُس کی موت پر پورا ملک سوگوار ہوگیا۔ اس کے جنازے میں 30 لاکھ افراد شریک ہوئے۔ موت کے فوراً بعد اُس کی لاش حنوط کر کے شیشے کے تابوت میں منسٹری آف لیبر کی عمارت میں رکھ دی گئی۔آخری دیدار کرنے کے لیے دو ہفتوں تک عوام کی لائنیں لگتی رہیں۔اُس کے مقبرے کی تعمیر شروع ہوئی، جسے دو سال میں مکمل ہونا تھا۔ اس دوران اُس کی حنوط شدہ لاش عوام کے دیدار کے لیے مقبرے کے تہ خانے میں رکھ دی گئی۔ مقبرہ تعمیر ہونے سے پہلے ہی فوج نے جون پیرون کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا اور اُسے ہنگامی طور پر ملک چھوڑنا پڑا۔ اس افراتفری میں وہ اپنی بیوی کی حنوط شدہ لاش بھی ساتھ نہ لے جا سکا۔ایک لمبے عرصے تک کسی کو پتا نہ چل سکا کہ فوجیوں نے ایوا کی لاش کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ سولہ سال بعد 1971 میں فوجی حکومت نے انکشاف کیا کہ ایوا کو اٹلی کے شہر میلان میں ’’ماریا میگی‘ کے فرضی نام سے دفن کر دیا گیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد اُس کا تابوت اسپین منتقل کیاگیا، جہاں اُس کا شوہر جلا وطنی کی زندگی گزار رہا تھا۔ اُس نے ایوا کا تابوت اپنے گھر میں رکھ لیا۔ 1973 میں جب ارجنٹینا سے فوجی حکومت کا خاتمہ ہوا توجون پیرون اپنی طویل جلا وطنی ختم کر کے ارجنٹینا لوٹا۔ اُس کی مرحومہ’ بیوی‘ بھی اُس کے ساتھ تھی۔ ارجنٹینا کے عوام نے جون پیرون کو تیسری مرتبہ کرسیِ صدارت پر بیٹھایا۔ تاہم اُس کی زندگی نے زیادہ عرصے وفا نہ کی اور ایک سال بعد وہ بھی اپنی چہیتی بیوی ایوا کے پاس چلا گیا۔ نئی منتخب ہونے والی صدر ایزابیل پیرون نے ایوا کی باقیات اُس کے خاندانی مقبرے میں دفنا دی۔ اس طرح ایوا کے جسد خاکی کی دربدری ختم ہوئی اور اُس کی باقیات کو ’حتمی‘ آخری آرام گاہ نصیب ہوسکی۔
۔

 ہیل سلاسی


 ہیل سلاسی ہائلی سلاسی 1930 سے 1974 تک ایتھوپیا کا شہنشاہ رہا۔جمیکا سے جنم لینے والے ایک فرقے Rrastafarian کے ماننے والے سیاہ فام اقوام کو افضل الناس اور ہیل سلاسی کو مسیح موعود مانتے تھے۔ سلاسی نے ایتھوپیا پر 45 سال حکمرانی کی۔ 12 ستمبر 1974 کو ایک فوجی بغاوت کے ذریعے جنرل امان میخائل ایڈوم نے ہیل سلاسی کا تختہ الٹ کر اسے شاہی محل میں قید کر دیا۔ دو ماہ بعد 23نومبر کو فوجی ٹریبونل نے بغیر مقدمہ چلائے سلاسی کے 60اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ قید کے دوران اگست 1975 کو سلاسی کی موت واقع ہوگئی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اُسے قتل کر دیا گیا تھا۔ فوجی حکومت نے اُس کی لاش محل کے ایک غسل خانے میں دفنا دی۔ یہ فوجی بغاوت سوویت یونین کی ایما پر کی گئی تھی، چناں چہ جب 1991 میں سوویت یونین ٹوٹا توایتھوپیاکی فوجی حکومت بھی لڑکھڑانے لگی۔ 1992 میں محل کا فرش توڑا گیا تو وہاں سے سلاسی کی ہڈیاں برآمد ہوئیں۔ سلاسی کی باقیات کو جمع کر کے قریب واقع چرچ میں دفنا دی گئیں۔ بعدازاں 2000 میں ان باقیات کو وہاں سے نکال کر پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادیس ابابا کے کتھیڈرل چرچ میں دفنایا گیا۔ 
۔

کرسٹوفر کولمبس 


کرسٹوفر کولمبس کرسٹوفر کولمبس ایک بحری مہم جو تھا جس نے 15 ویں صدی میں امریکہ کو دریافت کیا۔ وہ 1451 میں اٹلی میں پیدا ہوا اور اسپین کے عیسائی حکمرانوں کی ملازمت میں رہا۔ ملکہ ازابیلااور فرڈینینڈنے اسے چھوٹے جہاز دیے جن سے اس نے 1492 میں امریکہ دریافت کیا۔ کولمبس کی اس دریافت نے مہم جوئی اور نوآبادیوں کے ایک نئے سلسلے کو جنم دیا اور تاریخ کے دھارے کو بدل دیا۔ کولمبس نے 1506 میں وفات پائی۔اُس کی لاش بھی اُس کی طرح مختلف جہانوں کی سیر کرتی رہی۔ کولمبس نے اپنی وصیت میں کہا تھا کہ اُسے امریکامیں دفن کیا جائے۔ لیکن 1506 میں امریکامیں کوئی خاطر خواہ چرچ موجود نہیں تھا اس لیے ان کو ابتدائی طور پر اسپین میں دفنایا گیا۔ اس کے بعد ان کی لاش کو سیوِل میں دفن کیا گیا۔ 1542 میں لاش کو وہاں سے نکال کر سینٹو ڈومنگو( ڈومینکن ریپبلک ) میں دفنایا گیا۔ 

سترہویں صدی کے آخر میں ا سپین کے کچھ حصے پر بہ شمول سینٹو ڈومنگو پر فرانس کا قبضہ ہو گیا۔ کرسٹوفر کی لاش کوایک بار پھر وہاں سے نکال کر کیوبا لایا گیا۔ کیوبا نے آزادی حاصل کی تو 1898 میں یہ لاش سیوِل کے کتھیڈرل میں دفنائی گئی۔اس کے بعد تاریخ میں بڑی ہیر پھیر ہے۔ ڈومینکن ریپبلک میں’ کولمبس یادگار‘ میں ہڈیوں سے بھرا ایک ایسا بکس رکھا ہے، جس پر ’کرسٹوفر کولمبس‘ لکھا ہے۔ ڈاکٹروں نے سیوِل میں دفن کولمبس کی باقیات کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا تو معلوم ہوا کہ وہ کولمبس کے بھائی ڈی ایگو کی باقیات ہے۔ دوسری جانب ڈومینکن ریپبلک میں رکھی باقیات کا ڈی این اے نہیں کیا گیا۔ اس لیے یہ معمہ ابھی تک حل طلب ہے کہ سٹو فر کولمبس کی اصل لاش کہاں ہے۔
۔

 مادام کیوری


 مادام کیوری میری کیوری ( Marie Curie) المعروف مادام کیوری 7 نومبر 1867 کوپولینڈ کےدارالحکومت وارسا میں پیدا ہوئیں۔ وہ طبیعیات دان اور کیمیا دان تھیں اور تابکاری (radioactivity) کے شعبے کی بانی کہلاتی ہیں۔انھوں نے دو مرتبہ نوبل انعام حاصل کیا۔ وہ واحد شخصیت ہے، جن کو سائنس کے دو مختلف شعبوں (طبیعیات اور کیمیا) میں نوبل انعام ملیں۔ شعبہ طبیعیات میں انھیںاور اُن کے شوہر پیری کیوری کو مشترکا طور پرنوبل انعام تابکاری پر کی گئی اُن کی تحقیقات پر 1903 کوملا ،جب کہ کیمیا میں یہ انعام انھیں 1911 میں ملا جس کی وجہ ریڈئیم اور پولونیم کی دریافت تھی۔مادام کیوری پیرس یونی ورسٹی کی پہلی خاتون اُستاد تھیں۔چوبیس سال کی عمر میں 1891 میں وہ سائنس کی تعلیم کے لیے پولینڈ سے فرانس منتقل ہوئی تھیں، بعدازاں انھو ں نے فرانس کی شہریت اختیار کر لی ۔

انھوں نے اپنی تمام تر سائنسی تحقیقات فرانس میں کی تھیں اور کئی سائنسی ادارے قایم کیے ۔ 4 جولائی 1934 کو اُن کا فرانس میں انتقال ہُوا۔ انھیں پیرس کے مضافاتی علاقے Sceaux میں سپرد خاک کیا گیا۔ 1995 کو مادام کیوری اور اُن کے شوہر اور پارٹنر پیری کیوری کی قبر کشائی کر کے اُن کی باقیات کو پیرس میں واقع 1790 کا تعمیر کردہ مشہور مقبرہ Pantheon میں عزت و احترام کے ساتھ دوبارہ دفن کیا گیا۔ واضح رہے کہ اس مقبرہ میں اُن مشہور شخصیات کی باقیات رکھی جاتی ہیں، جنہوں نے اپنے کارناموں سے فرانس کا نام روشن کیا ۔ یہاں والٹیئر، روسو، وکٹر ہیوگو اور ایمیلی زولا جیسی شخصیات کی باقیات بھی رکھی ہوئی ہیں۔
۔

ڈوڈی الفائد 


 ڈوڈی الفائد لیڈی ڈیانا برطانوی شہزادہ چارلس کی پہلی بیوی تھی۔ 31 اگست 1997 میں وہ پیرس کی ایک ٹنل میں اپنے کروڑ پتی مصری دوست ڈوڈی الفائد کے ساتھ ایک کار حادثے میں ماری گئی۔ اس حادثے میں گاڑی کا ڈرائیور ہینری پال بھی مارا گیا تھا۔ اس حادثے کی تحقیقات برطانوی طاریخ کی سب سے طویل اور مہنگی ترین تحقیقات تھیں، جس کے نتیجے میں 2008 میں جیوری اس نتیجے پر پہنچی کہ ڈیانا اور الفائد کی موت پال کی لاپرواہی اور فوٹو گرافروں کی گاڑیوں کی وجہ سے ہوئی تھی، جو ڈیانا اور الفائد کی تصویریں لینے کے لیے کار کا پیچھا کر رہے تھے۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ڈرائیور ہینری پال نے حادثے کے وقت کافی مقدار میں شراب پی رکھی تھی۔ شہزادی ڈیانا کی برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس کے ساتھ جولائی 1981 میں شادی ہوئی تھی۔دو بیٹوں شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کی پیدایش کے بعد میاں بیوی میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ 1993 میں دونوں نے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر لی اور 1996 میں ان کے درمیان طلاق ہوگئی۔طلاق کے بعد ڈیانا خود کو تنہا محسوس کرنے لگی تھی، ایسے میں اُس کے دوست الفائد نے اس کا بھرپور ساتھ دیا ۔حادثے کے بعد ڈوڈی الفائد کی میت لندن لائی گئی، جہاں اُسے سورے میں بروک وڈ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ تاہم چند ماہ بعد اُس کا جسد خاکی قبر سے نکال کر پچیس میل دور اُس کے گھر کے قریب دفن کیا گیا

إرسال تعليق

Post a Comment (0)

أحدث أقدم