ابو نصر الفارابی
ابو نصر الفارابی معلّم ثانی ابو نصر الفارابی کا پورا نام محمد بن ترخان ہے ابن ابی اُصیبیہ نے ان کا نام ابو نصر محمد بن اوزیغ بن ترخان لکھا ہے الفارابی تورکستان کے مقام فاراب میں پیدا ہوئے فاراب جس کا مطلب ہے "دریاؤں کے پانی کے رخ سے سیراب زمین" دیمتری گتس نے نوٹ کیا کہ فارابی کے کارناموں میں تورک، فارسی، سوگدیئن اور یہاں تک کہ یونانی زبان میں حوالہ جات موجود ہیں الفارابی تورک النسل سے ہیں ابو نصر الفارابی مغرب میں الفاربیئس کے نام سے جانے جاتے ہیں ابو نصر الفارابی مشہور ابتدائی اسلامی فلاسفر اور فقیہ تھے جنہوں نے سیاسی فلسفہ، استعارات، اخلاقیات اور منطق کے شعبوں میں لکھا اُنہوں نے علم ریاضی، طب، فلسفہ اور موسیقی میں تحقیق و تحاریر منطق کی علمی گروہ بندی کی اسلامی فلسفیانہ روایت میں ارسطو کی پیروی کرتے ہوئے انھیں اکثر دوسرا استاد کہا جاتا ہے ارسطو جو پہلے استاد کے طور پر جانا جاتا تھا قرون وسطی کے دوران اس کی اصل یونانی متون کو اپنے تبصروں اور معالجوں کی وجہ سے محفوظ کرنے اور بہت سارے ممتاز فلسفیوں جیسے ابن سینا اور موسی بن میمون کو متاثر کرنے کا اعزاز ان کو دیا گیا اپنے کاموں کے ذریعہ وہ مغرب کے ساتھ ساتھ مشرق میں بھی مشہور ہوئے الفارابی نے اپنی پوری زندگی بغداد میں بسر کی ابن ابی اصیبعہ کے محفوظ کردہ خود کار تصنیف کی عبارت میں فارابی نے بتایا کہ اس نے یو حنا بن حیلان کے ساتھ منطق طب اور عمرانیات کی تعلیم حاصل کی تھی اور اس میں ارسطو کے بعد کے تجزیات بھی شامل تھے ابن ابی اصیبعہ کا تعلق طب میں مشہور ایک خاندان سے تھا اور موفق الدین اس خاندان کے مشہور ترین فرد تھے یعنی نصاب میں پڑھی جانے والی کتابوں کے ترتیب کے مطابق فارابی نے یہ دعوی کیا تھا کہ انہوں نے علم طبیعیات میں وجود خلا پر اہم تحقیقات کیں اس کے علاوہ ماہر عمرانیات، سیاسیات و موسیقیات بھی تھے
![]() |
| ابو نصر الفارابی |
فارابی ارسطو اور افلاطون سے بے حد متاثر تھے انہوں نے ارسطو کی اکثر کتابوں کی شروحات لکھیں اسی وجہ سے انہيں ’’معلّم ثانی‘‘ بھی کہا جاتا ہے ان شرحوں میں شرح ’’ایساغوجی‘‘ اور بطلیموس کی ’’المجسطی‘‘ بہت مشہور ہیں فارابی نہ صرف حکیم اور فلسفی تھے بلکہ سائنس نجوم اور موسیقی کے علوم پر بھی انہيں دسترس تھی ان کی دیگر تصانیف میں الموسیقی الکبیرہ، معافی العقل اور ’’ارا ء اہل المدینۃ الفاضلہ‘‘ اور ’’السیرۃ الفاضلہ‘‘ معروف ہیں ان کی تصانیف کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہیں فارابی شاعر بھی تھے ان کی ایک طویل دعا بھی بہت مشہور و معروف ہے جسے بعض تذکرہ نگاروں نے نقل کیا ہے پورفری کے آئسگوج اور ارسطو کی کیٹیگریز، ڈی انٹرپریٹیشن، پریئر اور پوسٹریر تجزیات کا مطالعہ کیا ہے اس کا استاد بن حیلان نیسٹوریائی عالم تھا مطالعے کا یہ دور غالباً بغداد میں تھا جہاں المسعودی نے لکھا ہے کہ یوہناں بن حیلان کی موت المقتدر باللہ کے دور میں ہوئی تھی اور کتاب "اراء اهل المدينة الفاضلة و مضادات" میں یہ درج ہے اس نے اگلے سال دمشق میں یہ کتاب ختم کی انہوں نے مراکش کے شہر تیتوان میں بھی تعلیم حاصل کی اور حلب میں کچھ عرصہ سکونت اختیار کی فارابی نے بعد میں مصر کا دورہ کیا انہوں نے مصر میں "مقصدی" کتاب کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے چھ حصوں کو ختم کیا جب وہ شام واپس آئے تو ہمدانی حکمران سیف الدولہ نے ان کی حمایت کی اس کے بعد تحقیق و تدریس کی طرف متوجہ ہو کر سیف الدولہ ہمدانی کے دربار سے وابستہ ہو گئے مسعودی اس حقیقت کے محض پانچ سال بعد لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ فارابی کا انتقال دمشق میں رجب کے مہینے میں ہوا ایک فلسفی کی حیثیت سے الفارابی ابتدائی اسلامی فلسفے کے اپنے مکتب بانی تھے جسے "فارابزم" یا "الفارابزم" کے نام سے جانا جاتا ہے الفارابی نے انسانی علم کی حدود کا پتہ چلایا الفرابی کا کئی صدیوں سے سائنس اور فلسفہ پر بہت اثر تھا ان کے کام جس کا مقصد فلسفہ اور تصوف کی ترکیب ہے جس سے ابن سینا کے کام کی راہ ہموار ہوگئی الفارابی نے ارسطو کے کام پر بھی ایک تبصرہ لکھا تھا اور ان کی ایک قابل ذکر کتاب اراء اهل المدينة الفاضلة و مضادات ہے جہاں اس نے افلاطون کی جمہوریہ کی طرح ایک مثالی ریاست کو نظریہ بنایا
الفارابی نے استدلال کیا کہ مذہب علامتوں اور قائلوں کے ذریعہ سچائی دیتا ہے اور افلاطون کی طرح اس کو بھی ریاست کے لئے رہنمائی فراہم کرنا فلسفی کا فرض سمجھتا ہے الفارابی نے افلاطونی نظریہ کو شامل کیا اسلامی تناظر میں ایک متوازی نقش کھینچتے ہوئے اس میں اس نے افلاطون کے تصور کردہ فلسفی بادشاہ کی بجائے پیغمبری امام کی حکومت کرنے والی مثالی ریاست کو سمجھا الفارابی نے استدلال کیا کہ مثالی ریاست مدینہ کی ریاست تھی جب اس کی سربراہی کے طور پر آخری نبی آقا دو جہاں حضرت محمدﷺ نے حکومت کی تھی کیوں کہ ان کا اللہ عزوجل کے ساتھ براہ راست میل جول تھا جس کا قانون ان پر نازل ہوا تھا الفارابی نے سنی راشدین خلافت کے جمہوری حکم کے سلسلے میں جمہوریت کو مثالی ریاست کے قریب ترین سمجھا ابتدائی مسلم تاریخ کے اندر ایک مثال کے طور پر انہوں نے یہ بھی برقرار رکھا کہ یہ جمہوریت سے ہی نامکمل ریاستوں کا آغاز ہوا۔
الفارابی کی علمی لگن
الفارابی کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ فارابی کی ابتدائی زندگی نہایت ہی غربت اور تنگدستی میں گزری مگر غربت و تنگدستی اس کے علم و جستجو پر غالب نہ ہو سکی الفارابی ایک دفعہ رات کے وقت مطالعہ میں مصروف تھے کہ تیل ختم ہونے سے چراغ بجھ گیا ان میں اتنی مالی وسعت نہ تھی کہ تیل خریدتے مگر شوق مطالعہ انہیں کھینچ کر باہر لے آیا اور گشت کر تے ہوئے پہرے دار کے سامنے لا کھڑا کیا فارابی نے پہریدار سے سارا ماجرا کہہ سنایا اور اُسے وہاں تھوڑی دیر رکنے کی گزارش کی تاکہ وہ اپنا سبق یاد کر لے پہریدار اس دن مان گیا مگر دوسرے دن اس نے رکنے سے صاف انکارکر دیا مگر فارابی نے گزارش کی کہ وہ اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہے گا تاکہ اس کی لالٹین کی روشنی میں مطالعہ کر سکے کچھ دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا مگر ایک دن پہریدار نے اس کی علمی لگن اور جستجو سے متاثر ہو کر اسے نئی لالٹین لاکر دے دی فارابی کے حصول علم کا یہ بے مثال واقعہ رہتی دنیا تک ایک مشعل راہ ہے انہوں نے تقریباً پچاس سال حصولِ علم میں صرف کئے۔
.jpg)
ایک تبصرہ شائع کریں