مغربی تہذیب کا سفاک اور خوفناک چہرہ


 مغربی_تہذیب_کا_سفاک_اور_خوفناک_چہرہ

مغربی تہذیب کا سفاک اور خوفناک چہرہ


مغربی تہذیب کو مثبت اور منفی پہلوؤں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، اس کے مثبت پہلوؤں کا ذکر اکثر تحریروں میں ہوتا رہتا ہے، آج اس تہذیب جدید کے دوسرے اور بھیانک رُخ کا ذکر کرتے ہیں، قدیم تاریخ اور موجودہ مغربی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک سفاک تہذیب ہے، انسانیت کی سب سے بڑی قاتل ہے، تاتاریوں نے بھی اتنے لوگوں کو قتل نہیں کیا جتنے اس مغربی تہذیب کے ہاتھوں مارے گئے۔ 

مغربی تہذیب کا سفاک اور خوفناک چہرہ
مغربی تہذیب کا سفاک اور خوفناک چہرہ


یورپ کی اپنی قوموں کے درمیان مذہبی اور نسلی بنیادوں پر لڑی گئی دہائیوں پر مشتمل جنگیں ہوتی رہیں، یہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگ مارے گئے، جرمن اور روس کی جنگ بھی بے شمار لوگوں کو نگل گئی، تحریک اصلاح کے بعد پروٹسٹنٹ اور کیتھولک لڑائیاں بڑی معروف ہیں، پہلی جنگ عظیم میں دو کروڑ لوگ لقمہ اجل بنے اور دوسری جنگ عظیم م

یں دس کروڑ لوگوں کا خاتمہ ہوا، یہ دونوں جنگیں مغرب نے ہی شروع کی تھیں، کولمبس کے دریافت کے بعد شمالی امریکہ کے قدیم باشندوں کو وحشیانہ انداز سے ختم کیا گیا اور ایسے ہی کچھ سالوں بعد جنوبی امریکہ اور آسٹریلیا کے باشندوں کے ساتھ ہوا، یہاں کے قدیم باشندوں اور ان کی تہذیبی باقیات کو اب صرف میوزیم میں ہی دیکھا جا سکتا ہے، ان تینوں براعظموں میں کروڑوں قدیم لوگ آباد تھے لیکن ہوس علاقہ اور وسائل نے ان کا نام و نشان مٹا دیا، یہاں سے لوٹ مار کے بعد جب یورپ دولت مند ہوگیا اور نئے ہتھیار بنالیے تو پھر قدیم مشرق کی طرف اس کا رُخ ہوگیا، ایشیا اور افریقہ میں مارے گئے لوگوں کی تفصیل تو ایک علیحدہ کتاب میں ہی بیان کی جا سکتی ہے۔

دور جدید میں افغانستان، عراق، شام اور لیبیاء میں وہی تباہی ہمارے سامنے ہو رہی ہے، یہاں کی آبادیاں یا تو ماری گئیں یا ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئیں، ماہرین نے اس تمام بربادی کا اندازہ ایک ارب انسانوں کا لگایا ہے، سفاکیت کا دوسرا مظاہرہ مغربی سرمایہ دار خوراک کے نرخ بڑھا کر کرتے ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق ۲۰۰۸ء میں مغرب خصوصاً امریکہ میں سب سے زیادہ غلہ اور دیگر خوردنی اشیاء پیدا ہوئیں لیکن المیہ یہ تھا کہ لوگوں کے پاس خریدنے کےلئے پیسے نہ تھے، ایک رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ بیسویں صدی کے آخر میں ستر لاکھ لوگ صرف بھوک سے مر گئے اور اب بھی تمام دنیا میں خوراک کے نرخ بہت بلند ہیں، اس کی وجہ خوراک کی رسد نہیں بلکہ غلہ فروخت کرنے والے سرمایہ داروں کا نفع کا لالچ ہے، وہ ان بنیادی ضروری اشیاء کے نرخ عوام کی قوت خرید کے برابر لانے کےلئے تیار نہیں ہوتے، اکثر اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ زائد غلے کو اٹھا کر سمندر برد کر دیتے ہیں اس کے نرخ کم نہیں کرتے۔

تاریخ قدیم کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ گزشتہ ۱۷ تہذیبوں میں لوگ کبھی بھوک سے نہ مرے تھے، ہر ایک انسان اور قوم کو کھانے پینے کی اشیاء آسانی سے میسر تھیں، اس وقت بھی ماہرین بتاتے ہیں کہ بھوکے لوگوں کی تعداد دنیا میں دس کروڑ کے قریب ہے اور یہ تعداد منجمد نہیں ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے، ایسے لوگوں کی تعداد ایشیا اور افریقہ میں سب سے زیادہ ہے، ترقی یافتہ دنیا میں بھی ایسے لوگ بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں، یہ سرمایہ داروں نے پیدا کر رکھی ہے، سرمایہ دار صرف ایک ہی کام جانتے ہیں وہ ہے زیادہ سے زیادہ نفع کمانا، ان کا اس سے تعلق ہی نہیں ہوتا کہ ارد گرد کے علاقے میں لوگ بھوک سے تڑپ رہے ہیں، سرمایہ داری نے اس کے سب سے بڑی وکیل کے گھر میں مسائل پیدا کردئیے ہیں، امریکہ کے اسی فیصد وسائل وہاں کی صرف ایک فیصد آبادی کے پاس آچکے ہیں، امریکہ کے غریب کچھ بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ظاہراً امریکہ میں جمہوری نظام ہے اور اپنے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار ہے لیکن حکومتوں کے تبدیل ہونے کے باوجود وہاں غریبوں کے حالات جوں کے توں رہتے ہیں۔

مغربی تہذیب کی سفاکیت کا اظہار خطرناک ترین اسلحہ کے ایجاد سے بھی ہوتا ہے، مغرب والوں نے فاسفورس بم ایجاد کیا جس کی لگائی گئی آگ پانی سے بھی نہیں بجھتی، جدید مغربی انسان نے حیاتیاتی جراثیموں پر مبنی ہتھیاروں، جوہری بمبوں اور بے شمار قسم کے اسلحہ کے ذخائر اتنی بڑی تعداد میں جمع کر لیے ہیں کہ ان سے موجودہ سات ارب پر مشتمل دنیا کو کئی دفعہ تباہ کیا جاسکتا ہے، ناگا سا کی اور ہیروشیما کے مناظر ذہن میں آتے ہی جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے، یہ جوہری بم تو ابتدائی دور کے تھے موجودہ ہیڈروجن اور نائٹروجن بموں کے سامنے تو پورا کرہ ارض چند لمحوں کی مار ہے، ایسے خطرناک ہتھیاروں کو جان کر معروف سائنس دان سٹیفن ہاکنگ نے کہا تھا کہ اب یہ کرۂ ارض انسان جیسی اعلیٰ مخلوق کے رہنے کے قابل نہیں رہا، اسے کسی اور سیارہ پر منتقل ہوجانا چاہیے اگر جوہری ہتھیار مشرق کے کچھ ممالک نے بنائے ہیں تو وہ صرف مغرب کے حملے کے توڑ کےلئے بنائے ہیں اور بہت دیر بعد بنائے ہیں۔

اب مغربی تہذیب کی ایک اور گھناؤنی صورت حال کا ذکر کرتے ہیں، اس صورت حال نے قدیم زمانے سے چلے آنے والے اخلاقی اور وحی پر مبنی تمام اصولوں کا خاتمہ کر دیا ہے، انسانی تعلقات اور رشتے اشیاء جیسی کم اہم صورت میں بدل رہے ہیں، صرف سرمایہ ہی سب سے اہم قدر رہ گیا ہے، ہر شے اسی پر جانچی جا رہی ہے، باپ، بیٹی، بہو، ساس، سالی اور پوتی سے جنسی تعلقات قائم کر رہا ہے، ماں، بیٹے اور نواسے سے منہ کالا کر رہی ہے، مغرب میں محرمات سے جبراً جنسی تعلقات ایک عام بات ہے، یہ آزادی کی قدر کا نتیجہ ہے، یہاں مساوات کے فلسفے کے تحت سب برابر ہیں، کسی سے بھی جنسی تعلقات میں فرق نہیں، ان باتوں کی تفصیل لکھتے وقت تو ہمارے قلم کو بھی شرم آتی ہے لیکن مغربی تہذیب کے گن گانے والوں کےلیے کچھ اشارات ضروری بھی ہیں، اجنبی عورت سے تعلق قائم کرنے کی زحمت اٹھانے، خطرناک جنسی بیماریاں سمیٹنے اور ناز برداری کےلئے پیسے خرچ کرنے کے بجائے گھر میں میسر انواع و اقسام کی جنسی نعمتوں سے کیوں استفادہ نہ کیا جائے؟ عورت عورت سے شادی کر رہی ہے، مرد اور مرد کے قانونی جوڑے بن رہے ہیں، ہم تو امریکہ کی سپریم کورٹ کے اعلیٰ بزرگ قانونی ماہرین کے فیصلے پر حیران ہیں جنہوں نے ہم جنس پرستی پر مشتمل شادیوں کو قانونی جواز فراہم کر دیا، ایک پورا سال سوچ و بچار کے بعد بھی انہوں نے انسانیت دشمن فیصلہ ہی سنایا، بچے پیدا کر کے سڑکوں پر پھینکے جا رہے ہیں، دوسری شادی قانوناً ممنوع ہے لیکن سینکڑوں عورتوں سے ناجائز تعلقات رضا مندی سے رکھے جائیں تو یہ بالکل درست ہے۔


مغرب میں کسی شوہر یا بیوی کا ایک دوسرے سے حق زوجیت کی ادائیگی کیلئے ہلکا پھلکا جبر بہت بڑا ظلم اور ناقابل معافی جرم ہے، یہ جرم Marital Rape کہلاتا ہے جسکی سزا بہت سخت ہے اور بعض ممالک میں سزا سات سال تک قید ہے، نکاح شدہ زانی اور زانیہ کے جرم زنا کی اصطلاح مغرب میں Spousal Rape کہلاتا ہے، یہ وہ مغرب ہے جہاں بغیر نکاح نا جائز تعلقات آزادی، لذت اور مزہ کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے، یہ آزادی کی انتہا ہے، دوسری جانب شر پسندی کا یہ عالم کہ اگر کوئی شادی شدہ اپنی خواہش نفس جائز طریقہ سے پوری کرنے کےلئے اپنے جیون ساتھی کی مرضی کا خیال نہ رکھے تو اسے Rape یعنی زنا کہا جاتا ہے، یہ فلسفہ زنا، آزادی، بنیادی مساوات اور جسم میری ملکیت سے اخذ کیا گیا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مغرب میں نکاح کے بغیر زنا کاری آسان ترین بن چکی ہے مگر نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات مشکل ترین ہو چکے ہیں، تاریخ انسانی میں ایسی ذلیل ترین تہذیب کبھی پیدا نہیں ہوئی جس نے نکاح کے ادارے کو اس طرح برباد کیا ہو، اس لئے رد عمل میں مغرب عورتوں اور مردوں نے شادی کرنا ترک کر دیا ہے کیونکہ ان کے نزدیک شادی کا مطلب مصیبت، آفت اور قانون کی پابندی کے سوا کچھ نہیں، اب مغرب میں خاندان کا ادارہ تباہ ہوگیا ہے، اب ملکوں اور قوموں کے آزاد مرد اور عورتوں کا کسی قبیلے اور خاندان سے کوئی تعلق نہیں، ہر فرد ہر لحاظ سے آزاد ہے، وہ جنسی بھوک مٹانے کیلئے جس کے پاس جانا چاہے چلا جائے، اس کو پوچھنے والا اس کرہ ارض پر کوئی نہیں، کوئی کسی کی آزادی میں مداخلت نہیں کر سکتا، نہ شوہر بیوی کی، نہ باپ بیٹی کی، نہ ماں بیٹے کی حتیٰ کہ آپ اپنے چھوٹے بچے کی مرضی اور ارادے کے خلاف کوئی کام نہیں کر سکتے، آپ کے علاوہ دوسرا جو بھی ہے وہ ایک الگ وجود ہے، اس کی اپنی ذاتی زندگی ہے جسے بنیادی حقوق کے فلسفے کے تحت آپ کی دستبرد، رسائی، اثر اندازی اور جبر سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔


مغربی لوگوں کے نزدیک دنیا کے تمام ماں، باپ اور بزرگ بلا تفریق جابر ہوتے ہیں لہٰذا بچوں کو بھی اس سے محفوظ کر دیا گیا ہے، دوسرے لفظوں میں پرائیویٹ لائف کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ اپنی خلوت اور جلوت میں جو چاہیں کریں بشرطیکہ یہ آزادی دوسروں کی آزادی میں حائل نہ ہو اور سرمایہ دارانہ عقائد سے متصادم نہ ہو، آپ کی ذاتی زندگی میں آپ کی بیوی، بچے اور گھر والے دیگر افراد شامل نہیں ہیں، آپ کے سوا جو کوئی ہے وہ Other ہے، اسی کا نام انفرادیت پرستی ہے، مغرب میں آزادی صرف فرد کی ہے کسی اجتماعیت، گروہ اور قبیلے کی نہیں ہوتی، اس آزادی کے سامنے خاندان جیسا مقدم اور قدیم ادارہ بھی پاش پاش ہو چکا ہے، اگر آپ بچے، بیوی اور شوہر کی آزادی میں مداخلت کریں گے یعنی اس کی غیر اخلاقی سرگرمیوں پر روک ٹوک کریں یا پابندیاں عائد کریں تو یہ مغرب میں قابل دست اندازی جرم ہے، جس میں قید اور جرمانے کی سزائیں شامل ہیں۔


بنیادی حقوق میں مذہبی آزادی کو تحفظ دیا گیا ہے لیکن اجتماعی طور پر نہیں، صرف ہر فرد کی مذہبی آزادی جو اس طرح رو بہ عمل آئے کہ دوسرے کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں جس طرح فرانس میں کرپان، پگڑی اور سکارف پر اس لیے پابندی لگائی گئی کہ دوسروں کی آزادی متاثر نہ ہو اس فلسفے کی وسعت کے بعد مذہبی عبادت گاہوں کا طرز تعمیر بھی تبدیل کر دیا گیا اوپر درج کردہ زنا کی رنگا رنگ اقسام سات ہزار سالہ انسانی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، آزادی کی راہ میں جو جذبہ، رویہ، طریقہ، قانون، شریعت، وحی یا روایت حائل ہوگی اس کو ختم کرنا فلسفہ آزادی کے تحت لازمی فریضہ ہے، مغرب میں اب ایسے لٹریچر کا سیلاب آیا ہوا ہے جس کے نام Rape in marriage اور License to rape ہے، سفاکیت کے ساتھ ساتھ یہ مغرب کی تہذیب کا گھناؤنا اور ننگا چہرہ ہے اس کی صرف چند جھلکیاں پیش کی گئی ہیں، کیا ہم مسلمان اپنے علاقوں میں اس ننگی اور سفاک تہذیب کو دیکھنا پسند کریں گے، ایسی تہذیب کے حق میں لبرل لوگوں کا باتیں کرنا درست نہ ہے، مغرب ایسی سفاک، گھناؤنی اور ننگی تہذیب کی وجہ سے تیزی سے زوال کی طرف بڑھ رہا ہے اس لیے مسلمانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے۔۔۔



إرسال تعليق

Post a Comment (0)

أحدث أقدم