داستان ایمان فروشوں کی8



 داستان ایمان فروشوں کی


( جب زکوئی سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی)

پہلا حصہ قسط 8


" پہلے بتاو ھوا کیا" ناجی نے بے قراری سے کہا ۔۔۔۔۔ " جو آپ چاھتے تھے ۔۔ آپکو یہ کس نے بتایا کہ صلاح الدین پتھر ھے فولاد ھے اور وہ مسلمانوں کے لیے اللہ کا سایہ ھے " اس نے زمین پر پاؤں کا ٹھڈ مارکر کہا " وہ اس ریت سے زیادہ بے بس ھے جس کو ھوا کے جھونکے اڑاتے پھرتے ھیں" زکوی نے کہا۔۔۔۔۔۔۔ "

 تمھارے حسن کےجادو اور زبان کے طلسم نے اسے ریت بنایا ورنہ یہ کمبخت چٹان ھے"

اوروش نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔"ھاں چٹان تھا لیکن اب رتیلا ٹیلا بھی نھیں " زکوی نے کہا
داستان ایمان فروشوں کی8
داستان ایمان فروشوں کی8


" میرے متعلق کوی بات ھوی"؟ ناجی نے کہا ۔۔۔۔۔۔" ھاں پوچھ رھا تھا کہ ناجی کیسا انسان ھے میں نے کہا کہ مصر میں اگر آپکو کسی پربھروسہ کرنا چاھیے تو وہ ناجی ھے اس نے کہا کہ تم کس طرح ناجی کو جانتی ھو میں نے کہا کہ وہ میرے باپ کے گہرے دوست ھیں ھمارے گھر گئے تھے اور کہہ رھے تھے کہ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا غلام ھوں مجھے سمندر میں کودنے کا حکم دینگے تو میں کود جاونگا پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم باعصمت لڑکی ھو، میں نے کہا میں آپکی لونڈی ھوں آپکا ھر حکم سر آنکھون پر ۔ کہنے لگا کہ کچھ دیر میرے پاس بیٹھو میں بیٹھ گی ، پھر وہ اگر پتھر تھا تو موم بن گیا اور میں نے موم کو اپنے سانچے میں ڈال لیا ، اس سے رخصت ھونے لگی تو اس نے مجھ سے معافی مانگی ، کہنے لگا میں نے زندگی میں پہلا گناہ کیا ھے ، میں نے کہا یہ گناہ نھی آپ نے میرے ساتھ کوئ دھوکہ نھی کیا زبردستی نھی کی مجھے بادشاھوں کی طرح حکم دے کر نھیں بلوایا، میں خود آئ تھی اور پھر بھی آونگی۔" زکوئ نے ھر بات اس طرح کھل کر سنائ جس طرح اسکا جسم عریاں تھا ناجی نے جوش مسرت سے اسے اپنے بازؤں میں لیں لیا اوروش زکوئ کو خراج تحسین اور ناجی کو مبارک باد دے کر خیمے سے نکل گیا ۔



صحرا کی اس پراسرار رات کی کوکھ سے جس صبح نے جنم لیا وہ کسی بھی صحرائ صبح سے مختلف نھی تھی مگر اس صبح کے اجالے نے اپنے تاریک سینے میں ایک راز چھپا لیا تھا جس کی قیمت اس سلطنت اسلامیہ جتنی تھی جس کے قیام اور استحکام کا خواب سلطان صلاح الدین ایوبی نے دیکھا اور اس کی تعبیر کا عزم لیکر جوان ھوا ، گزشتہ رات اس صحرا میں جو واقعہ ھوا اسکے 2 پہلو تھے ایک پہلو سے ناجی اور اوروش واقف تھے دوسرے سے سلطان صلاح الدین ایوبی کا محافظ دستہ واقف تھا اور سلطان صلاح الدین ایوبی اسکا سراغرساں اور جاسوس علی بن سفیان اور زکوئ تین ایسے افراد تھے جو اس واقعے کے دونوں پہلوں سے واقف تھے ، سلطان صلاح الدین ایوبی اور اسکے سٹاف کو ناجی نے نہایت ھی شان اور عزت کے ساتھ رخصت کیا ، سوڈانی فوج دو رو میں کھڑی " سلطان صلاح الدین ایوبی زندباد" کے نعرے لگا رھی تھی، سلطان صلاح الدین ایوبی نے نعروں کے جواب میں ھاتھ لہرانے مسکرانے اور دیگر تکلفات کی پرواہ نھیں کی ناجی سے ھاتھ ملایا اور اپنے گھوڑے کو ایڑی لگای اسکے پیچھے اپنے محافظ اور دیگر سٹاف کو بھی اپنے گھوڑے دوڑانے پڑے اپنے مرکزی دفتر پہنچ کر وہ علی بن سفیان اور اپنے نائب کو اندر لے گیا اور دروازہ بند کردیا وہ سارا دن کمرے میں بند رھے سورج غروب ھوا تاریکی چھا گی کمرے کے اندر کھانا تو دور پانی بھی نھیں گیا ، رات خاصی گزر چکی تھی جب وہ تینوں کمرے سے نکلے اور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ھوئے علی بن سفیان ان سے الگ ھوا تو محافظ دوستوں کے ایک کمانڈر نے اسے روکا اور کہا۔۔۔

" محترم ۔۔! ھمارا فرض ھے کہ حکم مانیں اور زبانیں بند رکھیں لیکن میرے دستے میں ایک مایوسی پھیل گی ھے خود میں بھی اسکا شکار ھوا ھوں"

" کیسی مایوسی " علی بن سفیان نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔

کمانڈر نے کہا "محافظ کہتے ھیں کہ فوج کو اگر شراب پینے کی اجازت ھے تو ھمیں اس سے کیوں منع کیا گیا ھے اگر آپ میری شکایت کو گستاخی سمجھیں تو سزا  دے دیں  لیکن میری شکایت سنیں ھم اپنے امیر کو اللہ کا برگزیدہ انسان سمجھتے تھے اور اس پر دل و جان سے فدا تھے مگر رات،،،،،،"

" مگر رات کو اسکے خیمے میں ایک رقاصہ گی" علی بن سفیان نے کمانڈر کی بات مکمل کرتے ھوے کہا " تم نے کوئ گستاخی نھیں کی ، گناہ امیر کریں یا غلام سزا میں کوی فرق نھیں ، گناہ بہرحال گناہ ھے میں یقین دلاتا ھوں آپکو کہ امیر مصر اور رقاصہ کے پچھلی رات کی ملاقات میں گناہ کا کوئ عنصر نھیں کوئ تعلق نھیں ،، یہ کیا تھا۔۔؟ ابھی میں تم کو نھی بتاونگا آھستہ آھستہ وقت گزرتے ھوے تم سب کو پتہ چل جاے گا کہ رات کو کیا ھوا تھا " علی بن سفیان نے کمانڈر کے کندھے پر ھاتھ رکھتے ھوے کہا میری بات غور سے سنو عامر بن صالح ۔ تم پرانے عسکری ھو اچھی طرح جانتے ھو کہ فوج اور فوج کے سربراہوں کے کچھ راز ھوتے ھیں جن کی حفاظت ھم سب کا فرض ھے رقاصہ کا امیر مصر کے خیمے میں جانا بھی ایک راز ھے اپنے جانبازوں کو شک میں نہ پڑنے دو اور کسی سے زکر تک نہ ھو کہ رات کو کیا ھوا تھا" علی بن سفیان نے کہا

یہ کمانڈر پرانا تھا اور علی بن سفیان کی قابلیت سے آگاہ تھا سو اس نے اپنے دستے کے تمام شکوک رفو کیئے اگلے روز سلطان صلاح الدین ایوبی دوپہر کا کھانا کھا رھے تھے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو اطلاغ دی گی کہ ناجی آئے ھیں ، سلطان صلاح الدین ایوبی کھانے سے فارغ ھوکر ناجی سے ملے ، ناجی کا چہرہ بتارھا تھا کہ غصہ میں ھے اور گھبرایا ھوا ھے اس نے ھکلاتے ھوے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

" قابل صدا احترام امیر مصر۔۔۔کیا یہ حکم آپ نے جاری کیا ھے کہ سوڈانی فوج کی پچاس ھزار نفری مصر کی اس فوج میں مدغم کردی جاے جو حال ھی میں تیار ھوی ھے "

" ھاں ناجی میں نے کل سارا دن اور رات کا کچھ حصہ صرف کر کہ اور بڑی گہری سوچ و بچار کے بعد یہ فیصلہ تحریر کیا ھے کہ جس فوج کے تم سالار ھو اسے مصر کی فوج میں اس طرح مدغم کردیا جاے کہ ھر دستے میں سوڈانیوں کی نفری صرف دس فیصد ھو اور تمھیں یہ حکم بھی مل چکا ھوگا کہ اب تم اس فوج کے سالار نھیں ھوگے تم فوج کے مرکزی دفتر میں آجاوگے " سلطان صلاح الدین ایوبی نے تحمل سے جواب دیا،

" عالی مقام مجھے کس جرم کی سزا دی جارھی ھے" ناجی نے کہا

" اگر تمھیں یہ فیصلہ پسند نھیں تو فوج سے الگ ھو جاو" سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

"معلوم ھوتا ھے میرے خلاف سازش کردی گی ھے آپ کو بلند دماغ اور گہری نظر سے چھان بین کرنی چاھیے مرکز میں میرے بہت سے دشمن ھیں" ناجی نے کہا
میرے دوست میں نے یہ فیصلہ صرف اسلیئے کیا  کہ میری انتظامیہ اور فوج سے سازشوں کا خطرہ ھمیشہ کے لیے نکل جاۓ اور میں نے یہ فیصلہ اسلیئے کیا ھے کہ کسی کا عہدہ کتنا ھی کیوں نہ بلند ھوں اور کتنا ھی ادنیٰ کیوں نہ ھوں وہ شراب نہ پیئے ھلڑ بازی نہ کرے اور فوجی جشنوں میں ناچ گانے نہ ھوں" صلاح الدین ایوبی نے کہا۔

" لیکن عالی جاہ۔۔۔ میں تو حضور سے اجازت لی تھی" ناجی نے کہا

" میں نے شراب اور ناچ گانے کی اجازت صرف اسلیئے دی تھی کہ اس فوج کی اصل حالت میں دیکھ سکوں جسے تم ملت اسلامیہ کا فوج کہتے ھو ، میں پچاس ھزار نفری کو برطرف نھیں کرسکتا مصری فوج میں اس کو مدغم کر کہ اسکے کردار کو سدھار لونگا اور یہ بھی سن لو کہ ھم میں کوی مصری سوڈانی شامی عجمی نھی ھے ھم سب مسلمان ھیں ھمارا جھنڈا ایک اور مذھب ایک ھے " سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

" امیر عالی مرتبت نے یہ تو سوچا ھوتا کہ میری کیا عزت رہ جاے گی" ناجی نے کہا

"جس کے تم اھل ھو، اپنی ماضی پر ھی نظر ڈالو ضروری نھی کہ اپنی کارستانیوں کی داستانیں مجھ سے ھی سنو فورا واپس جاو اور اپنی فوج کی نفری سامان جانور سامان خوردونوش وغیرہ کے کاغزات تیار کر کہ میرے نائب کے حوالے کرو سات دن کے اندر اندر میرے حکم کی تعمیل ضروری ھونی چاھیے" سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

ناجی نے کچھ کہنا چاہ لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی ملاقات کے کمرے سے باھر نکل گئے .............
یہ بات ناجی کے خفیہ حرم میں پہنچ گی تھی کہ زکوئ کو شاہ مصر نے رات بھر شرف بازیابی بخشا ھے، زکوئ کے خلاف حسد کی آگ پہلے ھی پھیلی ھوی تھی، اسے آے ابھی تھوڑا ھی عرصہ گزرا تھا لیکن آتے ھی ناجی نے اسکو اپنے پاس رکھا تھا ، اسے زرا سی دیر کے لیے بھی اس حرم میں جانے نھیں دیتا جہاں ناجی کی دلچسپ ناچنے والی لڑکیاں رھتی تھیں زکوی کو اس نے الگ کمرہ دیا تھا، انھیں یہ تو معلوم نہ تھا کہ ناجی زکوی کو صلاح الدین کو موم کرنے کی ٹرینگ دے رھا ھے اور کس بڑے تخریبیمنصوبے پر کام کر رھا ھے ، یہ رقاصائیں بس یہی دیکھ کر جل بھن گی تھیں کہ زکوئ نے ناجی پر قبضہ کرلیا تھا،اور ناجی کے دل میں ان کے خلاف نفرت پیدا کردی گی ھے ، حرم کی دو لڑکیاں زکوئ کو ٹھکانے لگانے کی سوچ رھی تھیں، اب انھوں نے دیکھا کہ زکوئ کو امیر مصر نے بھی رات بھر اپنے خیمے میں رکھا تو وہ پاگل ھو گئں، اسکو ٹھکانے لگانے کا واحد طریقہ قتل تھا، قتل کے دو ھی طریقے ھو سکتے تھے زھر یا کراے کے قاتل۔ جو زکوئ کو سوتے ھوے ھی قتل کردیں،دونوں ھی طریقے ناممکن لگ رھے تھے کیونکہ زکوئ باھر نھی نکلتی تھی اور اندر جانے تک اسکو رسائ کا کوئ زریعہ نھیں تھا،

ان دونوں نے حرم کی سب سے زیادہ ھوشیار چالاک ملازمہ کو اعتماد میں لیا تھا ، اسے انعام و اکرام دیتی رھتی تھیں، جب حسد کی انتہا نے انکی آنکھوں میں خون اتار دیا تو انھوں نے اس ملازمہ کو منہ مانگا انعام دے کر اپنا مدعا بیان کیا ، یہ ملازمہ بڑی خرانٹ اور منجھی ھوی عورت تھی، اس نے کہا کہ سالار کی رھایئشگاہ میں جاکر زکوئ کو زھر دینا مشکل نھیں، موقعہ محل دیکھ کر اسکو خنجر سے قتل کیا جاسکتا ھے اس کے لیے وقت چاھیے اس نے وعدہ کیا کہ وہ زکوئ کی نقل وحرکت پر نظر رکھے گی ھوسکتا ھے کوی موقعہ مل جاے ، اس جرائم پیشہ عورت نے یہ بھی کہا کہ اگر موقعہ نھی ملا تو حشیشن ) زکر پہلے ھو چکا ھے : بلیٹ( کی مدد لی جا سکتی ھے مگر وہ معاوضہ بھت زیادہ لیتے ھیں دونوں لڑکیوں نے اسکو یقین دلایا کہ وہ زیادہ سے زیادہ معاوضہ دے سکتی ھیں

ناجی اپنے کمرے میں بہت غصے کے عالم میں ٹہل رھا تھا زکوئ اسکو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رھی تھی لیکن اسکا غصہ مزید بڑھتا چلا جا رھا تھا ،

" آپ مجھے اسکے پاس جانے دیں میں اسکو شیشے میں اتار لونگی" زکوی نے کہا

" بیکار ھے ،،،،،، وہ کمبخت حکم نامہ جاری کرچکا ھے ، جس پر عمل بھی ھوچکا ھے مجھے اس نے کہی کا نھی رھنے دیا ، اس پر تمھارا جادو نھی چل سکا مجھے معلوم ھے میرے خلاف سازش کرنے والے لوگ کون ھیں وہ میری ابھرتی ھوی حیثیت سے حسد محسوس کر رھے ھیں میں امیر مصر بننے والا تھا ، یہاں کے حکمرانوں پر میں نے حکومت کی ھے حالنکہ میں معمولی سا سالار تھا اب میں سالار بھی نھی رھا،" ناجی نے دربان کو بلا کر کہا کہ اوورش کو بلاے، اسکا ھمراز اور نائب آیا تو اس نے بھی اسی موضوع پر بات کی اسے وہ کوی نئ خبر نھی سنا رھا تھا، اوورش کے ساتھ وہ صلاح الدین کے نئے حکم نامے پر تفصیلی تبادلہ خیال کرچکا تھا مگر دونوں اسکے خلاف کوی تفصیلی کاروائ نھی سوچ سکے تھے اب ناجی کے دماغ میں جوابی کاروائ آگی تھی اس نے اوورش کو کہا " میں نے جوابی کاروائ سوچ لی ھے "

" کیا " اوورش نے کہا

" بغاوت " ناجی نے کہا اور اوورش اسکو چپ چاپ دیکھتا رھا۔ناجی نے اسکو کہا " تم حیران ھو گئے ھو کیا تمھیں شک ھے کہ یہ 50 ھزار سوڈانی فوج ھماری وفادار نھیں۔۔۔؟کیا سلطان کے مقابلے میں مجھے اور تمھیں اپنا سالار اور خیر خواہ نھیں سمجھتی ۔۔؟ کیا تم اس فوج کو یہ کہہ کر بغاوت پر آمادہ نھیں کر سکتے کہ تمھیں مصر کا غلام بنایا جا رھا ھے مصر تمھارا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ "

" میں نے اس اقدام پر غور نھی کیا تھا بغاوت کا انتظام ایک اشارے پر ھو سکتا ھے لیکن مصر کی نئ فوج بغاوت کو دبا سکتی ھے اور اس نئ فوج کو کمک بھی مل سکتی ھے ، حکومت سے ٹکر لینے سے پہلے ھمیں ھر پہلو پر غور کرنا چاھیے" اوورش نے کہا

"میں غور کرچکا ھوں میں عیسائ بادشاھوں کو مدد کے لیے بلا رھا ھوں ، تم دو پیامبر تیار کرو انھیں بہت دور جانا ھے آو میری بات بہت غور سے سنو ،، زکوئ تم اپنے کمرے میں چلی جاو " ناجی نے کہا زکوی اپنے کمرے میں چلی گی اور وہ دونوں ساری رات اپنے کمرے میں بیٹھے رھے۔

إرسال تعليق

Post a Comment (0)

أحدث أقدم