داستان ایمان فروشوں کی5



 داستان ایمان فروشوں کی ۔۔

( جب زکوئی سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی) قسط5

رات کا وقت تھا ناجی اپنے کمرے میں دو  جونیئر کمانڈروں کے ساتھ بیٹھا شراب پی رھا تھا دو ناچنے والیاں ھلکی ھلکی موسیقی پر مستی میں آئ ھوئ ناگنوں کی طرح مسحور کن اداؤں سے رقص کر رھی تھیں، انکے پاؤں میں گھنگروں نھیں تھے، انکے جسموں پر کپڑے صرف اس قدر تھے کہ ان کے ستر ڈھکے ھوے تھے اس رقص میں خمار کا تاثر تھا۔۔۔۔

داستان ایمان فروشوں کی5
داستان ایمان فروشوں کی5


دربان اندر آیا اور ناجی کے کان میں کچھ کہا ناجی جب شراب اور رقص کے نشے میں محو ھوتا تھا تو کوئ اندر آنے کی جرات نھی کر سکتا تھا، صرف ناجی کو معلوم تھا کہ وہ کونسا کام ھے جس کے لیے ناجی شراب و شباب کے محفل سے اٹھا کرتا ھے ورنہ وہ اندر آنے کی جرات نھی کرتا تھا اسکی بات سنتے ھی ناجی باھر نکل گیا وھاں سوڈانی لباس میں ملبوس ایک اڈھیڑ عمر کا آدمی تھا اسکے ساتھ ایک جوان لڑکی تھی ناجی کو دیکھ کر وہ اٹھی،ناجی اسکے چہرے کی دلکشی  اور قد کاٹھ دیکھ کر ٹھٹک گیا وہ عورتوں کا شکاری تھا اسے عورتیں صرف عیاشی کے لیے درکار نھیں تھیں ان سے وہ اور بھی کئ کام لیا کرتا تھا جن میں سے ایک یہ تھا کہ وہ ان میں سے بہت ھی خوبصورت اور عیار لڑکیوں کے زریعے بڑے بڑے افسروں کو اپنی مٹھی میں رکھتا تھا اور ایک کام یہ بھی کہ وہ انھیں امیروں اور حکمرانوں کو بلیک میل کرنے کے لیےاستعمال کیا کرتا تھا اور ساتھ میں ان سے جاسوسی بھی کرالیا کرتا تھا، جس طرح قصاب جانور کو دیکھ کر بتاتا ھے کہ اسکا گوشت کتنا ھے اس طرح ناجی بھی لڑکی کو دیکھ کر بتاتا کہ یہ لڑکی کس کام کے لیے موزوں ھے لڑکیوں کے بیوپاری اور بردہ فروش اکثر مال ناجی کے پاس ھی لایا کرتے تھے۔

یہ آدمی بھی ایسے ھی بیوپاریوں میں سے ھی لگتا تھا لڑکی کے مطالق اس نے بتایا کہ لڑکی تجربہ کار ھے ناچ بھی سکتی ھے اور پتھر کو زبان کے میٹھے پن کی وجہ سے پانی میں تبدیل بھی کر سکتی ھے ناجی نے اسکا تفصیلی انٹرویو لیا وہ اس فن کا ماھر تھا اس نے راۓ قائم کی کہ جس کام کے لیے وہ اس لڑکی کو تیار کر رھا ھے تھوڑے سے ٹرینگ کے بعد یہ لڑکی اس کام کے لیے موزوں ھوگی، بیوپاری قیمت وصول کر کہ چلاگیا ناجی اس لڑکی کو اپنے کمرے میں لیکر چلاگیا جہاں اسکے ساتھی رقص اور شراب سے دل بہلا رھے تھے ، اس نے لڑکی کو نچانے کے لیے کہا ، اور جب لڑکی نے اپنا چغہ اتار کر اپنے جسم کو دو بل دیئے تو ناجی اور اسکے ساتھی تڑپ اٹھے پہلے نچانے والیوں کے رنگ پیلے پڑ گیے کیونکہ ان کی قیمت کم ھو گی تھی ناجی نے اس وقت محفل برخاست کردی ، اور لڑکی کو پاس بٹھا کر سب کو باھر نکال دیا لڑکی سے نام پوچھا تو اس نے زکوئ بتایا ، ناجی نے اس سے کہا،

" زکوئ تم کو یہاں لانے والے نے بتایا ھے کہ تم پتھر کو پانی میں تبدیل کر سکتی ھو میں تمھارا یہ کمال دیکھنا چاھتا ھوں"

" وہ پتھر کون ھے " زکوئ نے سوال کیا

" نیا امیر مصر" ناجی نے کہا وہ سالار اعظم بھی ھے"

" سلطان صلاح الدین ایوبی" زکوئ نے پوچھا

" ھاں اگر تم اسکو پانی میں تبدیل کردو تو میں اسکے وزن جتنا سونا تمھارے قدموں میں رکھ دونگا،"

وہ شراب تو پیتا ھوگا " زکوئ نے پوچھا

نھیں شراب ناچ گانا تفریح سے وہ اتنی ھی نفرت کرتا ھے جتنی ایک مسلمان خنزیر سے کرتا ھے" ناجی نے کہا
 میں نے سنا تھا آپکے پاس تو لڑکیوں کا ایک طلسم ھے جو نیل کی روانی کو روک لیتا ھے تو کیا وہ طلسم ناکام ھوا۔۔۔۔۔۔۔؟" زکوئ نے پوچھا

" میں نے ابھی تک انکو آزمایا نھی ھے یہ کام تم کر سکتی ھو میں تم کو سلطان کی عادتوں کے بارے میں بتا دیتا ھوں " ناجی نے کہا

"کیا آپ اسے زھر دینا چاھتے ھیں" زکوی نے پوچھا

" نھیں ابھی نھیں میری اسکے ساتھ کوئ دشمنی نھیں میں بس یہ چاھتا ھوں کہ وہ ایک بار کسی تم جیسی لڑکی کے جال میں پھنس جائے پھر میں اسے اپنے پاس بیٹھا کر شراب پلا سکوں اگر اسکو قتل کرنا مقصود تھا تو میں یہ کام حشیشن سے آسانی کے ساتھ کر سکتا تھا " ناجی نے جواب دیا۔۔۔

" یعنی آپ سلطان سے دشمنی نھیں دوستی کرنا چاھتے ھو" زکوئ نے کہا اتنا برجستہ جملہ سن کر ناجی لڑکی کو چند لمحے غور سے دیکھتا رھا لڑکی اسکے توقع سے زیادہ زھین تھی۔

" ھاں زکوئ" ناجی نے اسکے نرم و ملائم بالوں پر ھاتھ پھیرتے ھوے کہا میں اسکے ساتھ دوستی کرنا چاھتا ھوں ایسی دوستی کہ وہ میرا ہمنوا اور ھم پیالہ بن جائےآگے میں جانتا ھوں کہ مجھے اس سے کیا کام لینا ھے " ناجی نے کہا اور زرا سوچ کر بولا " لیکن میں تمھیں یہ بھی بتا دو کہ ایک جادو سلطان کے ھاتھوں میں بھی ھے اگر تمھارے حسن پر اسکے ھاتھ کا جادو چل گیا تو میں تمھیں زندہ نھی چھوڑنگا اگر تم نے مجھے دھوکہ دیا تو تم ایک دن سے زیادہ زندہ نھی رہ سکو گی صلاح الدین تم کو موت سے بچا نھی سکے گا تمھاری زندگی اور موت میرے ھاتھوں میں ھے تم مجھے دھوکہ نھی دے سکو گی ، اسلیئے میں نے تمھارے ساتھ کھل کر بات کی ھے ورنہ میری حیثیت اور رتبے کا انسان ایک پیشہ ور لڑکی سے پہلی ملاقات میں ایسی باتیں نھیں کرتا "
یہ آپکو آنے والا وقت بتائے گا کہ کون کس کو دھوکہ دیتا ھے زکوئ نے کہا " مجھے یہ بتائیں کہ میری سلطان تک رسائ کیسے ھوگی"

" میں اسے ایک جشن میں بلا رھا ھوں، ناجی نےکہا اور اسی رات میں ھی آپکو اس کے خیمے میں داخل کردونگا۔ میں نے تمھیں اسی مصد کے لیے بلایا ھے"

باقی میں سنبھال لونگی " زکوئ نے کہا
وہ رات گزر گئ پھر اور کئ راتیں گزر گئیں، سلطان صلاح الدین ایوبی انتظامی اور فوج کی نئ بھرتی میں اتنا مصروف تھا کہ ناجی کی دعوت قبول کرنے کا وقت نھیں نکال سکا علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو ناجی کے مطابق جو ریپورٹ دی تھی اس نے سلطان کو پریشان کردیا تھا ۔ سلطان نے علی سے کہا

" اس کا مطلب یہ ھے کہ ناجی صلیبیوں سے بھی زیادہ خطرناک ھے یہ سانپ ھے جیسے مصر کی امارات آستین میں پال رھی ھے"

علی بن سفیان نے ناجی کی تخزیب کاری کی تفصیل بتانی شروع کردی کہ ناجی نے کس طرح بڑے بڑے عہدیداروں کو ھاتھ میں لیا اور انتظامیہ میں من مانی کرتا رھا۔ اور کہا "اور جس سوڈانی سپاہ کا وہ سپہ سالار ھے وہ ھماری بجاۓ ناجی کی وفادار ھے کیا آپ اسکا کوئ علاج سوچ سکتے ھیں"

" صرف سوچ ھی نھیں سکتا علاج شروع بھی کر چکا ھوں،مصر سے جو سپاہ بھرتی کیئے جا رھے ھیں وہ سوڈانی باڈی گارڈز میں گڈ مڈ کردونگا پھر یہ فوج نہ سوڈانی ھوگی اور نہ مصری ، ناجی کی یہ طاقت بکھر کر ھماری فوج میں جذب ھوجاے گی۔ ناجی کو میں اسکے اصل ٹھکانے پر لیں آونگا۔" سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا
" اور میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ھوں کہ ناجی نےصلیبیوں کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ رکھا ھے علی بن سفیان نے کہا آپ ملت اسلامیہ کو ایک مضبوط مرکز پر لاکر اسلام کو وسعت دینا چاھتے ھیں مگر ناجی آپکے خوابوں کو دیوانے کا خواب بنا رھا ھے"

تم اس سلسلے میں کیا کر رھے ھوں۔" سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

" یہ مجھ پر چھوڑ دیں" علی نے کہا میں جو کرونگا وہ آپکو ساتھ ساتھ بتاتا رھونگا آپ مطمئن رھیں میں نے اسکو  جاسوسوں کی ایسی دیوار میں چن دیا ھے جس کے آنکھ بھی ھیں کان بھی اور یہ دیوار متحرک بھی ھے۔ یوں سمجھ لیں کہ میں نے اسکو اپنے جاسوسی کے قلعے میں قید کرلیا ھے"

سلطان صلاح الدین ایوبی کو علی بن سفیان پر اس قدر بھروسہ تھا کہ اس نے علی سے اسکے درپردہ کاروائ کی تفصیل نہ پوچھی، علی نے سلطان سے پوچھا" معلوم ھوا ھے وہ آپکو جشن پر بلانا چاھتا ھے اگر یہ ٹھیک بات ھے تو اسکی دعوت اس وقت قبول کرلیں جب میں آپکو کہونگا "

ایوبی اٹھا اور اپنے ھاتھ پیچھے کر کہ ٹہلنے لگا اسکی آہ نکی وہ رک گیا اور بولا " بن سفیان ۔۔!! زندگی اور موت اللہ کے ھاتھ میں ھے بے مقصد زندگی سے بہتر نھیں کہ انسان پیدا ھوتے ھی مر جائے۔؟ کھبی کھبی یہ بات دماغ میں آتی ھے کہ وہ لوگ کتنے خوش نصیب ھیں جن کی قومی حس مردہ ھوچکی ھوتی ھے اور جن کا کوئ کردار نھی ھوتا بڑے مزے سے جیتے ھیں اور اپنی آی پر مر جاتے ھیں"

وہ بد نصیب ھے امیر محترم " علی بن سفیان نے کہا
" ھاں بن سفیان میں جب انھیں خوش نصیب کہتا ھوں تو پتہ نھی کون میرے کانوں میں یہ بات ڈال دیتا ھے جو تم نےکہی مگر سوچتا ھوں کہ اگر ھم نے تاریخ کا دھارا اس موڑ پر نہ بدلہ تو ملت اسلامیہ صحراؤں وادیوں میں گم ھو جاے گا ملت کی خلافت تین حصوں میں تقسیم ھوگی ھے امیر من مانی کر رھے ھیں اور صلیبیوں کا آلہ کار بن رھے ھیں مجھے اس بات کا ڈر بھی ھے کہ اگر مسلمان زندہ بھی رھے تو وہ ھمشہ صلیبیوں کے غلام اور آلہ کار بنیں گے وہ اسی پر خوش ھونگے کہ وہ زندہ ھیں مگر قوم کی حیثیت سے وہ مردہ ھونگے زرا نقشہ دیکھو علی۔۔۔! آدھی صدی میں ھماری سلطنت کا نقشہ کتنا سکڑ کر رہ گیا ھے وہ خاموش ھوگیا اور ٹہلنے لگا اور پھر سر جھٹک کر علی کو دیکھنے لگا

" جب تباھی اپنے اندر سے ہو تو اسے روکنا محال ھوتا ھے اگر ھماری خلافتوں اور امارتوں کا یہی حال رھا تو صلیبیوں کو ھم پر حملہ کرنے کی ضرورت پیش نھی آے گی،، وہ آگ جس میں ھم اپنا ایمان اپنا کردار اپنی قومیت جلا رھے ھیں اس میں صلیبی آھستہ آھستہ تیل ڈالتے رھیں گے، انکی سازشیں ھمیں آپس میں لڑاتی رھیں گی، میں شاید اپنا عزم پورا نہ کرسکوں۔ میں شاید صلیبیوں سے شکست بھی کھاجاوں لیکن میں قوم کے نام ایک وصیت چھوڑنا چاھتا ھوں وہ یہ ھے کہ کسی غیر مسلم پر کھبی بھروسہ نھی کرنا، انکے خلاف لڑنا ھے تو لڑ کر مر جانا ، کسی غیر مسلم کے ساتھ کوئ سمجھوتہ کوئ معاہدہ نہ کرنا"

" آپکا لہجہ بتا رھا ھے کہ جیسے آپ اپنے عزم سے مایوس ھوگیے ھیں" علی بن سفیان نے کہا
" مایوس نھی جذباتی۔۔۔۔ علی۔۔۔ میرا ایک حکم متعلقہ شعبہ تک پہنچاو بھرتی تیز کردو اور کوشش کرو کہ فوج کے لیے ایسے آدمی زیادہ سے زیادہ بھرتی کرو جنکو جنگ و جدل کا پہلے سے تجربہ ھو۔ھمارے پاس اتنی لمبی تربیت کا وقت نھی، بھرتی ھونے والوں کے لیے مسلمان ھونا لازمی قرار دو، اور تم اپنے لیے زھن نشین کردو کہ ایسے جاسوسوں کا دستہ تیار کرو جو دشمن کے علاقے میں جا کر جاسوسی بھی کریں۔ اور شب خون بھی ماریں یہ جانبازوں کا دستہ ھوگا ، انھیں خصوصی تربیت دو ، ان میں یہ صفات پیدا کرو کہ وہ اونٹ کی طرح صحرا میں زیادہ سے زیادہ عرصہ پیاس برداشت کر سکیں۔ انکی نظریں عقاب کی طرح تیز ھوں۔ ان میں صحرائ لومڑی کی مکاری ھواور وہ دشمن پر چیتے کی طرح جھپٹنے کی مہارت طاقت کے مالک ھوں ان میں شراب اور حشیش کی عادت نہ ھو اور عورت کے لیے وہ برف کی طرح یخ ھوں ،، بھرتی تیز کرادو علی سفیان۔۔۔۔۔۔۔۔اور یاد رکھو

جاری ہے۔۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں

Post a Comment (0)

جدید تر اس سے پرانی