داستان ایمان فروشوں کی
( جب زکوئی سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی) قسط 4
"مسلمانوں کی زندگیاں پھولوں کی سیج نھی، جانتے نھی ھو صلیبی سلطنت ملت اسلامیہ کو چوھوں کی طرح کھا رھی ھے۔اور جانتے ھو کہ وہ کیوں کامیاب ھو رھے ھیں
 |
| داستان ایمان فروشوں کی4 |
صرف اسلیئے کہ ھم نے پھولوں کی پتیوں پر چلنا شروع کیا۔ھم نے اپنی بچیوں کو ننگا کر کہ انکی عصمتیں روند ڈالیں۔میری نظریں فلسطین پر لگی ھوئ ھیں تم میری راہ میں پھول ڈال کر مصر سے بھی اسلامی جھنڈا اتروا دینا چاھتے ھو کیا۔۔؟ سلطان صلاح الدین نے سب کو ایک نظر سے دیکھا اور دبدبے سے کہا۔اٹھا لو یہ پھول میرے راستے سے ، میں نے ان پر قدم رکھا تو میری روح چھلنی ھو جائے گی ، ھٹا دو ان لڑکیوں کو میری آنکھوں سے ایسا نہ ھو کہیں میری تلوار ان کی زلفوں میں الجھ کر بیکار ھو جاے"
"حضور کی جاہ حشمت"
"مجھے حضور نہ کہو" سلطان صلاح الدین نے بولنے والے کو یوں ٹوک دیا جیسے تلوار سے کسی کی گردن کاٹ دی ھو سلطان صلاح الدین نے کہا " حضور وہ ھے جن کے نام کا تم کلمہ پڑھتے ھو، جن کا میں غلام بے دام ھوں۔ میری جان فدا ھو اس حضور پر جن کے مقدس پیغام کو میں نے سینے پر کندہ کر رکھا ھے میں یہی پیغام لیکر مصر آیا ھوں۔ صلیبی مجھ سے یہ پیغام چھین کر بحیرہ روم میں ڈبو دینا چاھتے ھیں، شراب میں ڈبو دینا چاھتے ھیں، میں بادشاہ بن کر نھیں آیا۔"
لڑکیاں کسی کے اشارے پر پھولوں کی پتیاں اٹھا کر وھاں سے ھٹ گی تھیں، سلطان تیزی سے دروازے کے اندر چلا گیا۔ایک وسیع کمرہ تھا جس میں ایک لمبی میز رکھی گی تھی، جس پر رنگا رنگ پھول رکھے ھوئے تھےان کے بیچ روسٹ کیے گئےے بکروں کے بڑے بڑے ٹکڑے سالم مرغ اور جانے کیا کیا رکھاگیا تھا، سلطان صلاح الدین رک گیا اور اپنے نائب سے کہا کہ " کیا مصر کا ھر ایک باشندہ ایسا ھی کھانا کھاتا ھے"
" نھیں حضور غریب تو ایسے کھانے کا خواب بھی نھیں دیکھ سکتے،" نائب نے کہا
" تم کس قوم کے فرد ھو سلطان صلاح الدین نے کہا کیا ان لوگوں کی قوم الگ ھے جو ایسے کھانوں کا خواب بھی نھیں دیکھ سکتے۔" کسی طرف سے کوئ جواب نھی آیا
" اس جگہ جتنے ملازم ھیں اور جتنےسپاھی ڈیوٹی پر ھیں ان سب کو بلاو اور یہ کھانا انکو دے دو۔" سلطان صلاح الدین نے ایک روٹی اٹھا ئ اس پر دو تین بوٹیاں رکھیں ،نہایت تیزی سے روٹی کھا کر پانی پیا اور باڈی گارڈزکے کمانڈر ناجی کو ساتھ لیکر اس کمرے میں چلاگیا جو وائسراۓ کا دفتر تھا،
2 گھنٹے بعد ناجی دفتر سے نکلا دوڑ کر اپنے گھوڑے پر سوار ھوا ایڑئ لگائ اور نظروں سے اوجھل ھوا۔ رات ناجی کے دو کمانڈر جو اسکے ھمراز تھے بیٹھے اسکے ساتھ شراب پی رھے تھے، ناجی نے کہا "
جوانی کا جوش ھے تھوڑے دنوں میں ٹھنڈا کرادونگا، کم بخت جو بھی بات کرتا ھے کہتا ھے رب کعبہ کی قسم۔۔ صلیبیوں کو ملت اسلامیہ سے باھر نکال کر ھی دم لونگا۔"
" صلاح الدین ایوبی" ایک کمانڈر نے طنزیہ کہا۔ " اتنا بھی نھی جانتا کہ ملت اسلامیہ کا دم نکل چکا ھے اب سوڈانی حکومت کرینگے"
" کیا آپ نے اسے بتایا نھی کہ یہ پچاس ھزار کا لشکر سوڈانی ھے اور یہ لشکر جسے وہ اپنی فوج سمجھتا ھے صلیبیوں کے خلاف نھیں لڑے گا۔" دوسرے کمانڈر نے ناجی سے پوچھا
"تمھارا دماغ ٹھکانے ھے اوروش ۔۔۔؟ میں اسے یقین دلا آیا ھوں کہ یہ 50 ھزار سوڈانی شیر صلیبیوں کے پرخچے اڑا دینگے ۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔ " ناجی چھپ ھوکر سوچ میں پڑ گیا
" لیکن کیا"
" اس نے مجھے حکم دیا ھے کہ مصرکے باشندوں کی ایک فوج تیار کرو۔ اس نے کہا ھے کہ ایک ھی ملک کی فوج ٹھیک نھیں ھوتی اس نے بولا کہ مصر کی فوج بناکر ان میں شامل کردو" ناجی نے کہا
" تو آپ نے کیا جواب دیا۔؟"
" میں نے کہا کہ حکم کی تعمیل ھوگی لیکن میں اس حکم کی تعمیل نھیں کرونگا، ناجی نے جواب دیا،
مزاج کا کیسا ھے" اوروش نے کہا
" ضد کا پکا معلوم ھوتا ھے" ناجی نے کہا
" آپکے دانش اور تجربے کے آگے تو وہ کچھ بھی نہیں لگتا نیا نیا امیر مصر بن کر آیا ھےکچھ روز یہ نشہ طاری رھے گا" دوسرے کمانڈر نے کہا
" میں یہ نشہ اترنے نھی دونگا اسی نشے میں ھی بدمست کر کہ مارونگا" ناجی نے جواب دیا۔
بہت دیر تک وہ سلطان کے خلاف باتیں کرتے رھے اور اس مسلئے پر غور کرتے رھے کہ اگر سلطان نے ناجی کی بے تاج بادشاھی کے لیے خطرہ پیدا کردیا تو وہ کیا کرینگے، ادھر سلطان اپنے نائب کو سامنے بٹھاے یہ بات زھن نشین کرارھا تھا کہ وہ یہاں حکومت کرنے نھیں آیا اور نہ ھی کسی کو حکومت کرنے دے گا اس نے انھیں کہا کہ اسکو جنگی طاقت کی ضرورت ھے اور اس نے یہ بھی کہا کہ اسکو یہاں کا فوجی ڈھانچہ بلکل پسند نھی آیا 50 ھزار باڈی گارڈز سوڈانی ھیں، ھمیں ملک کے ھر باشندے کو یہ حق دینا چاھیے کہ وہ ھمارے فوج میں سے آۓ اپنے جوھر دکھاے اور مال غنیمت میں سے اپنا حصہ وصول کرے یہاں کے عوام کا معیار زندگی اسی طرح بلند ھوسکتا ھے میں نے ناجی کو کہہ دیا ھے کہ وہ عام بھرتی شروع کردیں۔
" کیا آپکو یقین ھے کہ وہ آپکے حکم کی تعمیل کرے گا" ایک ناظم نے اس سےپوچھا۔
" کیا وہ حکم کی تعمیل سے گریز کریے گا"
" وہ حکم کی تعمیل سے گریز کر سکتا ھے وہ حکم کی تعمیل نھی اپنی منواتا ھے فوجی امور اسکے سپرد ھے " ناظم نے جواب دیا
سلطان ایوبی خاموش ھوا جیسے اس پر کچھ اثر ھوا ھی نھیں ھو۔اس نے سب کو رخصت کردیا اور صرف علی بن سفیان کو اپنے ساتھ رکھا، علی بن سفیان جاسوس اور جوابی جاسوسی کا ماھر تھا، اسے سلطان بغداد سے اپنے ساتھ لایا تھا، وہ اڈھیڑ عمر آدمی تھا اداکاری چرب زبانی بھیس بدلنے کا ماھر تھا، اس نے جنگوں میں جاسوسی کی بھی اور جاسوسوں کو پکڑا بھی تھا، اسکا اپنا ایک گروہ تھا جو آسمان سے تارے بھی توڑ لاسکتا تھا، سلطان کو جاسوسی کی اھمیت سے واقفیت تھی۔ فنی مہارت کے علاوہ علی بن سفیان میں وھی جذبہ تھا جو سلطان ایوبی میں تھا،
" تم نے سنا علی یہ لوگ کہتے ھیں کہ ناجی کسی سے حکم نھی لیتا اپنی منواتا ھے"
صلاح الدین نے کہا
" ھاں میں نے سن لیا ھے اگر میں چہرے پہچاننے میں غلطی نھی کرتا تو میری راۓ میں باڈی گارڈز کا یہ کمانڈر جس کا نام ناجی ھے ناپاک زھنیت کا مالک ھے اس کے مطابق میں پہلے سی ھی کچھ جانتا ھوں یہ فوج جو ھمارے خزانے سے تنخواہ لے رھی ھے دراصل ناجی کی زاتی فوج ھے اس نے حکومتی حلقوں میں ایسی ایسی سازشیں کی ھیں جس نے حکومتی ڈھانچے کو بے حد کمزور کردیا ھے، آپکا یہ فیصلہ بلکل بجا ھے کہ فوج میں ھر خطے کے سپاھی ھونے چاھیں میں آپکو تفصیلی ریپورٹ دونگا۔ مجھے شک ھے کہ سوڈانی فوج اسکی وفادار ھے ھماری نھی۔ آپکو اس فوج کی ترتیب اور تنظیم بدلنی پڑے گی۔ یا ناجی کو سبگدوش کرنا پڑے گا" علی بن سفیان نے کہا
" میں اپنے ھی صفوں میں اپنے دشمن پیدا نھی کرنا چاھتا ناجی اپنے گھر کا بھیدی ھے اسکو سبکدوش کرکے دشمن بنالیادانشمندی نھی ھماری تلواریں غیروں کے لیے ھیں اپنوں کے خون بہانے کے لیے نھی میں ناجی کی زھنیت کو پیار اور محبت سے بدل سکتا ھوں تم اس فوج کی زھنیت معلوم کرنے کی کوشیش کرو اور مجھے ٹھیک ریپورٹ دو کہ فوج کہاں تک ھماری وفادار ھے۔" سلطان صلاح الدین نے کہا۔
مگر ناجی اتنا کچا نھی تھا اسکی زھنیت پیار اور محبت کے بکھیڑوں سے آزاد تھی اسے اگر پیار تھا تو اپنے اقتدار اور شیطانیات کے ساتھ، اس لحاظ سے وہ پتھر تھا، مگر جیسے وہ اپنے جال میں پھنسا لینا چاھتا تھا اسکے سامنے موم بن جاتا تھا اس نے سلطان صلاح الدین کے سامنے یہی رویہ اختیار کیا یہاں تک کہ وہ سلطان صلاح الدین کے سامنے بیٹھتا بھی نھیں ، ھاں میں ھاں ملاتا چلا جاتا ، اس نے مصر کے مختلف حصوں سے سلطان صلاح الدین کے حکم کے مطابق فوج کے لیے عام بھرتی شروع کی تھیں اگر چہ یہ کام اسکے مرضی کے خلاف تھا، دن گزرتے گیے سلطان صلاح الدین اسے کچھ کچھ پسند کرنے لگا تھا ناجی نے سلطان صلاح الدین کو یقین دلایا تھا کہ سوڈانی فوج اسکے حکم کی منتظر ھے اور یہ قوم کی توقعات پر پورا اترے گی ناجی دو تین بار سلطان صلاح الدین کو کہہ چکا تھا کہ سوڈانی فوج باڈی گارڈز کی طرف سے اسے دعوت دینا چاھتا ھے اور فوج اس کے اعزاز میں جشن منانے کو بیتاب ھے لیکن سلطان صلاح الدین یہ دعوت مصروفیات کی وجہ سے قبول نھی کر سکا۔۔
جاری ہے
ایک تبصرہ شائع کریں