داستان ایمان فروشوں کی
( جب زکوئی سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی) قسط 3
سلطان صلاح الدین ایوبی نے مدرسہ نظام الملک میں تعلیم حاصل کی، یاد رھے کہ نظام الملک دنیائےاسلام کے ایک وزیر تھے یہ مدرسہ انھوں نے تعمیر کیا، جس میں اسلامی تعلیم دی جاتی تھی، اور بچوں کو اسلامی تاریخ اور نظریات سے بہرور کیا جاتا
 |
| داستان ایمان فروشوں کی3 |
ایک مورخ ابن الاطہر کے مطابق نظام الملک حسن بن صباح کے فدائیوں کا پہلا شکار ھوے تھے کیونکہ وہ رومیوں کی توسیع پسندی کی راہ میں چٹان بنے ھوے تھے رومیوں نے ٩١ہ١ میں انھیں فدائیوں کے ھاتھوں قتل کردیا۔ ان کا مدرسہ قائم رھا،اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے وہیں تعلیم حاصل کی۔ اسی عمر میں سپاہ گری کی تربیت اپنے خاندان کے بڑوں سے لی۔ نورالدین زنگی نے ان کو جنگی چالیں سکھائیں، ملک کے انتظامات کے سبق سکھائے اور ڈیپلومیسی میں مہارت دی، اس تعلیم و تربیت نے اسکے اندر وہ جذبہ پیدا کیا جس نے آگے چل کر صلیبیوں کے لیے سلطان کو بجلی بنادیا۔ جوانی میں ھی اس نے وہ مہارت زھانت اور اھلیت حاصل کی تھی جو ایک سالار اعظیم کے لیے اھم ھوتے ھیں۔ سلطان صلاح الدین نے فن حرب و ضرب میں جاسوس گوریلا اور کمانڈو آپریشنز کو
خصوصی اھمیت دی۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ صلیبی جاسوسی کی میدان میں آگے نکل گیے تھے اور وہ مسلمانوں کے نظریات پر نہایت کارگر حملے کر رھے تھے۔ سلطان صلاح الدین نظریات کے محاذ پر لڑنا چاھتا جس میں تلوار استعمال نھی ھوتی تھی۔ ان واقعات میں آپ چل کر دکھیں گے کہ سلطان صلاح الدین کی تلوار کا وار تو گہرا ھوتا ھی تھا لیکن اسکی محبت کا وار تلوار سے بھی زیادہ مارتا تھا، اس کے لیے تحمل اور بردباری کی ضرورت ھوتی تھی جو سلطان صلاح الدین نے جوانی میں ھی خود کے اندر پیدا کر لی تھی۔سلطان صلاح الدین کو جب مصر کا وائسراۓ بناکر بھیجا گیا تو وھاں پر سینئر عہدئداروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا کیونکہ وہ سب اس عہدے کی آس لگاے بیٹھے تھے۔
نکی نظر میں سلطان صلاح الدین طفل مکتب تھا ، لیکن جب سلطان صلاح الدین نے انکا سامنا کیا اور باتیں سنی تو ان کا احتجاج سرد پڑگیا۔
یورپین مورخ لین پول کے مطابق سلطان صلاح الدین ڈسپلن کا بھت ھی سخت ثابت ھوا ۔
اسنے تفریح عیاشی اور آرام کو اپنے لیےاور فوج کے لیے حرام قرار دیا۔ اس نے اپنی تمام جسمانی اور زھنی قوت صرف اس میں خرچ کی کہ ملت اسلامیہ کو پھر سے ایک کر سکیں اور صلیبیوں کو یہاں کی سرزمین سے نکال سکیں۔سلطان صلاح الدین فلسطین پر ھر قیمت سے قبضہ کرنا چاھتا تھا ۔ اور یہی مقاصد سلطان صلاح الدین نے اپنی فوج کو دیئے مصر کا وائسراۓ بن کر سلطان نے کہا۔۔۔۔۔۔۔
" اللہ نے مجھے مصر کی سرزمین دی ھے اور اللہ ھی مجھے فلسطین بھی عطا کرے گا،"
مگر مصر پہنچ کر سلطان پر انکشاف ھوا کہ اسکا مقابلہ صرف صلیبیوں سے نھی ھے بلکل اسکے اپنے مسلمان بھائیوں نے اسکی راہ میں بڑے بڑے حسین جال بنا رکھے ھیں جو صلیبیوں کے عزائم اور جنگی قوتوں سے زیادہ خطرناک ھے تو یہ تھا ھلکہ سا تعارف
مصر میں جن زعما نے سلطان کا استقبال کیا ان میں ایک ناجی نامی سالار بھت اھمیت کا حامل تھا، سلطان نے سب کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔سلطان کے ھونٹوں پر مسکراھٹ اور زبان پر پیار کی چاشنی تھی۔ بعض پرانے افسروں نے سلطان کو ایسی نظروں سے دیکھا جن میں طنز اور تمسخر تھا۔ وہ صرف سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام سے واقف تھے یا یہ کہ یہ ایک شاھی خاندان کا فرد ھے اور اپنے چچا کا جانشین ھے، وہ یہ بھی جانتے تھے کہ نورالدین زنگی کے ساتھ سلطان صلاح الدین ایوبی کا کیا رشتہ ھے ، ان سب کی نگاھوں میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی اھمیت بس اسکے خاندان بیک گراونڈ کی وجہ سے تھی یا صرف یہ کہ وہ مصر کا وائسراۓ بن کر آیا تھا اس کے سوا انھوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو کوئ وقعت نہ دی، ایک بوڑھے افسر نے اپنے ساتھ کھڑے افسر کے کان میں کہا"
"بچہ ھے۔۔۔۔۔ اسے ھم پال لینگے،"
اس وقت کے مورخ یہ نھیں لکھ پائے کہ آیا سلطان صلاح الدین ایوبی نے انکی نظریں بھانپ لی تھیں کہ نھیں۔وہ استقبال کرنے والے اس ھجوم میں بچہ لگ رھا تھا، البتہ جب وہ ناجی کے سامنے ھاتھ ملانے کے لیے رکا تو اسکے چہرے پر تبدیلی آگی۔ وہ ناجی سے ھاتھ ملانا چاھتا تھا لیکن ناجی جو اسکے باپ کے عمر کا تھاسب سے پہلے درباری خوشامدیوں کی طرح جھکا پھر ایوبی سے بغل گیر ھوگیا اس نے ایوبی کی پیشانی کو چھوم کر کہا۔
"میری خون کا آخری قطرہ بھی آپکی حفاظت کے لیے ھوگا۔ تم میرے پاس زنگی اور شردہ کی امانت ھو"
"میری جان عظمت اسلام سے زیادہ قیمتی نھی محترم اپنے خون کا ایک ایک قطرہ سنبھال کر رکھیں، صلیبی سیاہ گھٹاوں کی طرح چھا رھے ھیں۔" سلطان نے کہا۔
ناجی جواب میں مسکرایا جیسے سلطان نے کوی لطیفہ سنایا ھو،
سلطان صلاح الدین اس تجربہ کار سالار کی مسکراھٹ کو غالبًا نھیں سمجھ سکا۔ ناجی فاطمی خلافت کا پروردہ سالار تھا، وہ مصر میں باڈی گارڈز کا کمانڈر اینچیف تھا۔جس کی نفری پچاس ھزار تھی اور ساری کی ساری نفری سوڈانی تھی۔یہ فوج اس وقت کے جدید ھتیاروں سے لیس تھی اور یہی فوج ناجی کا ھتیار بن گی تھی جس کے زور پر ناجی بے تاج بادشاہ بن گیا تھا، وہ سازشوں اور مفاد پرستوں کا دور رھا ، اسلامی دنیا کی مرکزیت ختم ھوگئ تھی، صلیبیوں کی بھی نہایت دلکش تخزیب کاریاں شروع رھیں۔زر پرستی اور تعیش کا دور دورہ تھا۔جس کے پاس زرا سی بھی طاقت تھی وہ اسکو دولت اور اقتدار کے لیے استعمال کرتا تھا۔سوڈانی باڈی گارڈ فوج کا کمانڈر ناجی مصر میں حکمرانوں اور دیگر سربراھوں کے لیے دھشت بناھوا تھا۔ اللہ نے اسکو سازش ساز دماغ دیا تھا۔ناجی کو اس دور کا بادشاہ ساز کہا جاتا تھا بنانے اور بگاڑنے میں خصوصی مہارت رکھتا تھا۔ اس نے سلطان صلاح الدین کو دیکھا تو اسکے چہرے پر ایسی مسکراھٹ آی جیسے ایک کمزور اور خفیف بھیڑ کو دیکھ کر ایک بھیڑیئے کے دانت نکل آتے ھیں، سلطان صلاح الدین اس زھر خندہ کو سمجھ نھیں سکا۔۔ سلطان صلاح الدین کے لیے سب سے زیادہ اھم آدمی ناجی ھی تھا۔کیونکہ وہ پچاس ھزار باڈی گارڈز کا کمانڈر رھا۔اور سلطان صلاح الدین کو فوج کی بھت اشد ضرورت تھی۔ سلطان صلاح الدین سے کہا گیا کہ حضور بڑی لمبی مسافت سے تشریف لاے ھیں پہلے آرام کر لیں تو سلطان صلاح الدین نے کہا،
" میرے سر پر جو دستار رکھی گئ ھے میں اسکے لائق نہ تھا اس دستار نے میری نیند اور آرام ختم کردی ھے کیا آپ حضرات مجھے اس چھت کے نیچھے لیکر نھی جاینگے جس کے نیچھے میرے فرائض میرا انتظار کر رھے ھیں۔"
"کیا حضور کام سے پہلے طعام لینا پسند کرینگے" اسکے نائب نے کہا
سلطان صلاح الدین نے کچھ سوچا اور اسکے ساتھ چل پڑا۔۔ لمبے تڑنگے باڈی گارڈز اس عمارت کے سامنے دو رویہ دیوار بن کر کھڑے تھے جس میں کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔
سلطان صلاح الدین نے فوجیوں قد بت اور ھتیار دیکھے تو اسکے چہرے پر رونق آگئ۔لیکن دروازے میں قدم رکھتے ھی یہ رونق ختم ھوئ وھاں چار نوجوان لڑکیاں جن کے جسموں میں زھد شکن لچک اور شانوں پر بکھرے ھوے ریشمی بالوں میں قدرت کا حسن سمویا ھوا تھا ھاتھوں میں پھولوں کی پتیوں سے بھری ھوی ٹوکریاں لیے کھڑی تھیں۔انھوں نے سلطان صلاح الدین کے قدموں میں پتیاں پھینکنا شروع کیں اور اسکے ساتھ دف کی تال پر طاوس درباب اور شہنایئوں کا مسحور کن نغمہ ابھرا۔سلطان صلاح الدین نے راستے میں پھولوں کی پتیاں دیکھ کر قدم پیچھے کر لیے، ناجی اور اسکا نائب سلطان صلاح الدین کے دائیں بائیں تھے۔ وہ دونوں جھک گئے اور سلطان صلاح الدین کو آگے بڑھنے کی دعوت دی۔۔ یہ وہ انداز تھا جو مغلوں نے ھندوستان میں رائج کیا تھا،
" صلاح الدین پھولوں کی پتیاں مسلنے نھی آیا" ایوبی نے ایسی مسکراھٹ سے کہا جو لوگوں نے بہت ھی کم کسی کے ھونٹوں پر دیکھی تھی۔
" ھم حضور کے قدموں میں آسمان سے تارے بھی نوچ کر بچھا سکتے ھیں" ناجی نے کہا
اگر میری راہ میں کچھ بچھانا ھی چاھتے ھو تو وہ ایک ھی چیز ھے جو مجھے بھت بھاتی ھے۔" سلطان صلاح الدین نے کہا
"آپ حکم دیں ۔۔ وہ کونسی چیز ھے جو سلطان کے دل کو بھاتی ھے" ناجی کے نائب نے کہا۔
"صلیبیوں کی لاشیں۔۔۔سلطان صلاح الدین نے مسکرا کر کہا۔ مگر جلد ھی یہ مسکراھٹ ختم ھو گئ۔ اس کے آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے۔ اس نے دھیمی آواز میں جس میں غضب اور عتاب چھپا ھوا تھا۔کہا۔۔۔"
جاری ہے۔۔۔
إرسال تعليق