ملا نصرالدین
ملا نصرالدین ایک صوفی بزرگ تھے ان کا دور تیرہویں سنہ عیسوی تھا عہد وسطی کے سلجوق دور میں یہ شہر اکسیہیر اور قونیہ میں زندگی بسر کی ان کے القاب ملا، آفندی، حوجا وغیرہ تھے بہت سارے ممالک مثلاَ افغانستان، ترکی، ایران ازبک، کا یہ دعویٰ رہا کہ ملا ان کے ملک سے تعلق رکھتے ہیں یہ اپنے مزاحیہ مزاج کے لیے مشہور تھے یونیسکو نے 1996-1997 سال کو ملا نصرالدین کا سال اعلان کیا نصرالدین کا نام مختلف تلفظات کے ساتھ استعمال میں دیکھا گیا ہے نصردین، نصرالدین، نصریرالدین، نصرتین، نصرتن، وغیرہ ان کا نام ان القاب کے ساتھ ساتھ ملتاہے، حوگزا، حودجا، حوجا، حودشا، حودزا، حوکا، حوگیا، وغیرہ عرب ممالک میں، جحا، ضوحا، غیوفا، گوہا، آفندی، ملاہ، ملا، مولانا، ایفندی، وغیرہ ناموں سے بھی پہچانے چاتے ہیں سواہلی تۃذیب میں مانا جاتا ہے کہ ملا کو ابونواسی کے نام سے بھی جانا جاتاہے لیکن ابہام یہ ہے کہ آیا یہ نام ملا سے تعلق رکھتا ہے یا چینی جدید شاعر ابونواس سے وسط ایشیا میں عام طور پر آفندی کے نام سے مشہور ہیں نصرالدین اناطولیہ میں زندگی بسر کی تیرہویں عیسوی میں اسکسہر کے سوریہسار گاؤں میں پیدا ہوئے اکسہر کو قیام گاہ بنا لیا ان کی وفات جون 1275ء یا جون 1285ء کو ہوئی جیسے دور گذرتے گئے نئی کہانیوں ک اندراج ہوتا گیا، اور چند کہانیوں میں ردوبدل پیش آیے یہ کہانیاں دنیا کے کئی خطوں میں داخل ہوئیں ان کہانیوں کا مرکزی خیال، علاقائی کہاوتوں، روایتوں، محاوروں میں مروج ہوتا گیا ان کی کہانیاں مختلف تہذیبوں کا ایک حصہ بن گئیں ملا نصرالدین کی کہانیوں کا سب سے قدیم مسودہ 1571ء میں دستیاب ہوا آج کلا ملا کے لطیفے دنیا کے مختلف علاقوں میں عام ہیں، اور بہت ساری زبانوں میں ترامیم ہوئی ہیں ملا، اسلامی تہذیب یا مسلمانوں کی تہذیب کا ایک حصہ مانے جاتے ہیں، اور ان کے قصے مسلمانی علاقوں کے ادبی گوشہ کا ایک حصہ بن چکی ہیں صرف اسلامی تہذیب ہی نہیں بلکہ دیگر تہاذیب کے ادب میں بھی ان کے لطیفے، لطیفے، کہانیاں اور محاوروں کی شکل میں دیکھنے کو ملتی ہیں ان کے لطیفے عام انسان کی روزمرہ زندگی سے اچھا خاصہ رابطہ رکھنے کی وجہ سے مشہور ہوئے ملا کا نام ایک اہم کردار کے روپ میں، البینین، ازیری، بنگالی، بوسنین، بلغاریہ، یونان، ہندی، اطالوی، پشتو، ایرانی، رومانی، سربی، ترکی، اردو دہقانی، وگنیٹی تہذیبوں میں مشہور ہے اور گریک تہذیب میں بھی کافی مشہور ہے چین میں ملا کے نام سے کےی کارٹون، کارٹون فلمیں، فلمیں اور ناول وغیرہ عام ہیں شہر اکسہیر میں ہر سال جولائی 5-10 تواریخ کو “بین الاقوامی نصرالدین حجا جلسہ“ منایا جاتا ہے۔
![]() |
| ملا نصرالدین |
🔥لطیفوں میں خیال تصوف🔥
ملا نصرالدین کی کہانیاں، وسط مشرق اور دیگر ممالک میں کافی مشہور ہیں ان کی کہانیاں کہانیوں، لطیفوں کے روپ میں کافی دلچسپی سے استعمال کی جاتی ہیں یوں کہا جائے کہ حکایتوں اور اخلاقی محاوروں کی شکل میں بھی ان کے لطیفے عام ہیں خودی کا شعور، فلسفہ، منطق اور معارفت سے بھرے ان کے لطیفے ادب کا ایک حصہ بنے ہوئے ہیں ملا کے لطیفوں اور کہانیوں سے یہ ظاہر ہوتاہے یہ ملا بذریعہ مزاح، طنز اور سنجیدگی پیدا کردیتے تھے اور ان کے لطیفوں کی شہرت کا سہرا ان باغی خیالات کی طرف جاتاہے جو ہم عثری سلاطین کے خلاف تھے یعنی ملا اس دور کے سلاطین اور انکی پالیسیوں کے خلاف تھے جن کو عوام خوب پسند کرتے تھے ملا کے خیالات زمانے کی اکاسی کرتے نظر آتے ہیں ان کے لطیفہ گوئی میں منطق، سیاسی رجحان، اور مثبت رویہ نظر آتاہے ان کے لطیفوں میں حکایات کی کثرت پائی جاتی ہے اور ان حکایات میں صوفیانہ مزاج پایا جاتاہے اسی نکتئہ نظر سے مشہور صوفی مصنف ملا کی کئی تصانیف کو یکجا کیا اور کئی متراجم بھی کئے۔🔥یوروپ میں روایاتی کہانیوں اور ادب میں نصرالدین🔥عثمانیہ سلطنت کے کئی ممالک جسیے بلغاریہ، مقدونیہ اور سسلی میں بھی ملا نصرالدین جانے پہچانے جاتے ہیں چند لوگوں کا خیال ہے کہ ملک سسلی میں ملا کو منفی نظریہ سے دیکھا جاتا ہے ملا کے لطیفوں سے ان کی کردار نویسی کرتے ہوئے کئی کہانیاں اور ناول لکھے گئے ایک اینی میشن فلم چور اور موچی بھی بنائی گئی۔روس میں لیونید سولوویف کی ناول"Tale of Hodja Nasreddin" (English translation "The Beggar in the Harem: Impudent Adventures in Old Bukhara")کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔
🔥مختصر لطیفے🔥
🔥خطبہ🔥
ایک مرتبہ ملا نصرالدین کو خطبہ دینے کی دعوت دی گئی مگر ملا اس خطبہ کے لیے دل سے راضی نہیں تھے خیر، ممبر پہ کھڑے ہوکر ملا نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے پوچھا ‘‘ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں اپنے خطبہ میں کیا کہنے والا ہوں؟‘‘ لوگوں نے جواب دیا ‘‘نہیں‘‘ ملا نے کہا ‘‘میں ان لوگوں سے خطاب کرنا نہیں چاہتا، جو یہ تک نہیں جانتے کہ میں کیا کہنے والا ہوں‘‘ یہ کہتے ہوئے ملا وہاں سے رخصت ہوگئے لوگ تعجب میں پڑگئے دوسرے ہفتہ پھر ملا کو خطبہ کے لیے طلب کیا گیا اس مرتبہ ملا منبر پر کھڑے ہوکر پھر یہی سوال کیا تو لوگوں جواب میں ‘‘ہاں‘‘ کہا نصرالدین نے کہا ‘‘اچھا تو آپ جانتے ہیں کہ میں کیا کہنے والا ہوں تو میں میرا قیمتی وقت برباد کرنا نہیں چاہتا‘‘ اور پھر نکل پڑے اس بار لوگ تذبذب میں پڑگئے، اور فیصلہ کیا کہ ملا کے پھرسے خطبہ کےلیے مدعوکیا جائے تیسرے ہفتے ملا پھر تشریف لائے، حذب مطابق وہی سوال پوچھا اس بار لوگ تیار تھے کہ جواب میں کیا کہناہے، نصف لوگوں نے کہا ‘‘ہاں‘‘ تو بقیہ لوگوں نے ‘‘نہیں‘‘ کہا ‘‘وہ لوگ جو یہ جانتےہیں کہ میں کیا کہنے والا ہوں، بقیہ لوگوں کو بتادیں‘‘ یہ کہہ کر لوٹ گئے۔🔥دریا کے دو کنارے🔥نصرالدین ایک ندی کے ایک کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے دوسرے کنارے پر کھڑے ایک شخص نے زور سے ملا سے پوچھا، مجھے اُس کنارے پر آنا ہے، کیا کروں؟ تو ملا نے جواب دیا "تم کو اس کنارے پر آنے کے لیے اُس کنارے پر رہنا ہوگا ! "آپ کس پہ یقین رکھتے ہیں؟:ایک مرتبہ ملا اپنے گھر کے آنگن میں بیٹھے تھے ان کے ایک دوست نے ان آکر پوچھا کہ ملا مجھے ضروری کام سے پاس کے گاؤں جانا ہے اور کچھ سامان لے جانا ہے براہ کرم آپ کا گدھا دیں گے تو میں اسے لے جاؤں گا اور شام تک لوٹا دوں گا ملا چوں کہ دوست کو گدھا دینا نہیں چاہتے تھے ٹالنے کے خیال سے یہ کہہ دیا کہ، گدھا کوئی اور لے گیا ہے اتنے میں سحن سے گدھے کے چیخ سنائی دی دوست نے کہا کہ ملا گدھا تو یہیں پر موجود ہے! تو ملا نے جواب میں پوچھا کہ ایں کہ آپ مجھ پر یقین کریں گے کہ گدھے پہ؟
🔥ذائقہ ایک ہی ہے🔥
ایک مرتبہ ملا اپنے گدھے پر انگور سے بھری دو ٹوکریوں کو لادے انگور کے باغ سےآرہے تھے چند بچے ملا کے اطراف گھیر لیے اور انگور مانگنے لگے ملا تھوڑے انگور نکالے اور بچوں میں تقسیم کئے بچوں نے ملا سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس ڈھیر سارے انگور ہیں مگر ہمیں تھوڑے ہی دئے! تو ملا نے جواب دیا بچو انگور جتنے بھی ہوں مزہ تو ایک ہی جیسا ہوتا ہے!🔥اسٹیج پر خطاب🔥ایک مرتبہ ملانصرالدین ایک محفل میں پکڑ لئے گئے اور ان سے کہا گیا کہ کچھ نصیحت فرمائیں،ملا نصیرالدین اسٹیچ پر آئے اور سامعین سے پوچھا:جو کچھ میں کہنے جارہاہوں کیاآپ لوگوں کومعلوم ہے ؟ لوگوں نے کہا :نہیںملا نےکہا کہ آپ کوبتانے سے کیا فائدہ جب آپ جانتے ہی نہیں کچھ عرصے بعد پھر ایک محفل میں ملا پکڑے گئے پھر ان سے نصیحت کرنے کی التجا کی گئی اسٹیچ پر آکر وہی پراناسوال دہرایا لوگوں نے سوچاکہ پچھلی بار نہ جاننے کی وجہ سے نصیحت سے محروم رہ گئے تھے اس لئے سب نے بیک زبان جواب دیا:ہاں۔ملا نے جواب دیا: جب آپ لوگوں کومعلوم ہے کہ میں کیاکہنے والاہوں تو پھر بتانے سے کیافائدہ تیسری بار ملا شومئی قسمت پھر پکڑ میں آگئے اور انھیں نصیحت کرنے کوکہاگیا ملانے پھر اپناسوال دہرایا۔عقلمندی دکھاتے ہوئے سامعین کے آدھے لوگوں نے انکار میں اور آدھے لوگوں نےاقرار میں جواب دیا۔ملا نے کہا:جن لوگوں کومعلوم ہے کہ میں کیاکہنے والاہوں وہ ان لوگوں کو بتادیں جو نہیں جانتے اور یہ کہہ کر اسٹیچ پر سے اتر گئے۔

ایک تبصرہ شائع کریں